உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عیدالاضحی سے قبل دربھنگہ کے مسلمانوں کو بڑی راحت، ظلم وتشدد کا شکار ہوئے مسلمانوں کو واپس بسایا گیا

    دربھنگہ کے گھنشیام پور بلاک کے بدھیا ٹولہ میں 16 جون کو قتل کے افسوسناک واقعہ کے ردعمل میں اکثریتی طبقے کے لوگوں نے وہاں کے مسلمانوں کو گاوں بدر ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ 15 دن کے بعد ملی، سماجی وسیاسی رہنماوں نے انتظامیہ کی مدد سے لوگوں کو واپس آباد کرایا ہے۔

    دربھنگہ کے گھنشیام پور بلاک کے بدھیا ٹولہ میں 16 جون کو قتل کے افسوسناک واقعہ کے ردعمل میں اکثریتی طبقے کے لوگوں نے وہاں کے مسلمانوں کو گاوں بدر ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ 15 دن کے بعد ملی، سماجی وسیاسی رہنماوں نے انتظامیہ کی مدد سے لوگوں کو واپس آباد کرایا ہے۔

    دربھنگہ کے گھنشیام پور بلاک کے بدھیا ٹولہ میں 16 جون کو قتل کے افسوسناک واقعہ کے ردعمل میں اکثریتی طبقے کے لوگوں نے وہاں کے مسلمانوں کو گاوں بدر ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ 15 دن کے بعد ملی، سماجی وسیاسی رہنماوں نے انتظامیہ کی مدد سے لوگوں کو واپس آباد کرایا ہے۔

    • Share this:
      دربھنگہ: ضلع دربھنگہ کے گھنشیام پور بلاک کے بدھیا ٹولہ میں 16 جون کو قتل کے افسوسناک واقعہ کے ردعمل میں اکثریتی طبقے کے لوگوں نے وہاں کے مسلمانوں کو گاوں بدر ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ 15 دن گزرنے کے بعد بھی لوگ در در ٹھوکریں کھارہے تھے، اس درمیان وہاں کے امام صاحب کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی۔ سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر تھے۔ 7 جولائی کو عین عید سے قبل وہاں کے لوگ اب وطن واپس جا چکے ہیں اور پر امن طور سے رہ رہے ہیں۔

      قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کو قومی سطح پر اٹھائے جانے کے بعد معاملہ سیاسی گفتگو کا موضوع بن گیا۔ تب مشہور صحافی اور سماجی کارکن شاہنواز بدر قاسمی نے ایم ایل سی خالد انور اور اسی طرح جمعیۃ علمائے بہار کے نائب صدر مولانا اطہر قاسمی نے ایم ایل سی قاری صہیب سے رابطہ کیا اوران کی کاوشوں سے یہ طے ہوا کہ 6 جولائی کو پولس کے اعلی افسران امن کمیٹی طلب کریں گے۔ چنانچہ، گھنشیام پور تھانہ میں دوپہر تین بجے امن کمیٹی کی میٹنگ میں اس واقعہ کے حل کیلئے کئی اہم فیصلے لئے گئے۔

      میٹنگ میں اعلی پولیس افسران کے ساتھ علاقہ کے اہم ذمہ داران کی موجودگی میں یہ طے پایا کہ اس بستی کے جتنے بھی مسلم فیملی خوف زدگی کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کرچلے گئے تھے، ان کی جلد واپسی کو یقینی بنایا جائے، اس محلہ میں مستقل طور پر حالات پُرامن ہونے تک پولیس کی نگرانی رہے گی۔ قتل کیس میں نامزد ایف آئی آر کے علاوہ نامعلوم کسی بھی شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ مسلم فریق میں جن کے ساتھ کوئی زیادتی کی گئی ہے، ان کی شکایت پر قصورواروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

      عیدالاضحی سے قبل جہاں مسجد میں گزشتہ کئی دنوں سے اذان اور نماز کا اہتمام نہیں ہو پارہا ہے، اسے یقینی بنایا جائے، اگلے جمعہ میں علاقہ کے معتبر عالم دین نائب صدر جمعیۃ علمائے دربھنگہ مفتی نظرالباری نماز جمعہ ادا کرائیں گے اور ڈی ایس پی کی موجودگی میں سب لوگ مل جل کر رہنے کا عہد لیں گے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے سارا معاملہ حل ہوگیا۔ کل 7 جولائی کو پولس کی نگرانی میں گاوں سے باہر رہ رہے خاندان مردو خواتین گاوں واپس آگئیں۔ کل ظہر اور عصر کی نماز مفتی نظر الباری ندوی نے وہاں پُرامن ماحول میں پڑھائی۔ اطلاعات کے مطابق، جمعہ کی نماز بھی مفتی صاحب نے پڑھائی۔ مفتی نظر الباری نے گاوں پہنچ کر مردوخواتین کو حوصلہ کے ساتھ جینے کی تلقین کی اور کہا کہ مومن اس قدر بزدل نہیں ہوتا۔

      اس قضیہ کے حل کے سلسلے میں جمعیۃ علمائے بہار کے صدر مفتی جاوید اقبال قاسمی نے حکومت بہار کے اعلی افسران کا شکریہ ادا کیا ہے، انھوں نے وزیر اعلی اور چیف سکریٹری عامر سبحانی کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا اور دیگر اہم شخصیات میں جمعیت علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی، روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر ودود ساجد، جمعیۃ علمائے دربھنگہ کے صدر ڈاکٹر مولانا اعجاز قاسمی، آرجے ڈی کے نو منتخب ایم ایل سی قاری صہیب، شاہنواز بدر قاسمی اور دیگر احباب کی جدوجہد کی تحسین کی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: