ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات میں اردو آبادی کو خوش کرنے کی کوشش، جےڈی یو کے کارکنان نے لگایا اردو میں پوسٹر

بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں صوبہ کی حکومتوں کی جانب سے اردو کی ترقی کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ باوجود اس کے آج بھی قانون اردو کا مکمل نفاذ نہیں ہوسکا ہے۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات میں اردو آبادی کو خوش کرنے کی کوشش، جےڈی یو کے کارکنان نے لگایا اردو میں پوسٹر
بہار اسمبلی انتخابات میں اردو آبادی کو خوش کرنے کی کوشش، جےڈی یو کے کارکنان نے لگایا اردو میں پوسٹر

پٹنہ: بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں صوبہ کی حکومتوں کی جانب سے اردو کی ترقی کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ باوجود اس کے آج بھی قانون اردو کا مکمل نفاذ نہیں ہوسکا ہے۔ اسمبلی انتخابات قریب ہیں تو سیاسی سلوگن (نعروں) کے ساتھ اردو کا پوسٹر پٹںہ کی سڑکوں پر نظر آنے لگا ہے۔ اس بات سے جےڈی یو کے مسلم لیڈر کافی خوش ہیں۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ انتخابات کے موقع پر پہلی بار اردو میں پوسٹر لگایا جارہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اردو کے معاملہ میں کتنی سنجیدہ ہے۔


ماہرین تعلیم کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اردو میں سیاسی پوسٹر لگائے جانے سے اردو اور اردو آبادی کی حیثیت واضح ہوگئی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ صرف اردو میں پوسٹر لگا دینے سے اردو کی ترقی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔ اب ذرا برسر اقتدار پارٹی کی اردو دوستی پر غورکیجئے۔ بہار میں اردو اکیڈمی تین سالوں سے تحلیل ہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی تقریباً دو سال سے تحلیل ہے۔ صوبہ کا واحد گورنمنٹ اردو لائبریری کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اسکولوں کے نصاب سے اردو کی لازمیت کو ختم کردیا گیا ہے، ساتھ ساتھ اسکولوں میں اردو کے ٹیچر کی بحالی میں 40 طلباء کی قید لگادی گئی ہے۔


وہیں ریاست کے آدھے سے زیادہ اسکولوں میں اردو کے ٹیچر نہیں ہیں، ایسے میں محبان اردو کے سامنے یہ سوال قائم ہےکہ کیا واقعی صوبائی حکومت اردو کے معاملہ میں سنجیدہ ہے یا پھر اردو ایک سیاسی کھیل کا محض حصہ بھر ہے۔ موقع اسمبلی انتخابات کا ہے تو محبان اردو کو خوش کرنے کے نام پر پوسٹر کی سیاست سے اردو حلقہ کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جے ڈی یو اور وزیر اعلیٰ اردو نواز ہیں، لیکن سیاست ہی صحیح اسمبلی انتخابات کا نعرہ اور سیاسی پوسٹر اردو میں لگائے جانے سے اردو کا ایک حلقہ ضرور خوش ہوا ہے اور اردو زبان کو لے کرحکومت کی حصولیابی کی تعریف بھی کرنے لگا ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 16, 2020 10:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading