ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

عالمی یوم خواتین پر بیگمات بھوپال کو یاد کیا گیا، برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام پروگرام منعقد

عالمی یوم خواتین کے موقع پر پورے ملک میں خواتین کی حقوق اور ان کی خدمات سے متعلق مختلف پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ وہیں مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔

  • Share this:
عالمی یوم خواتین پر بیگمات بھوپال کو یاد کیا گیا، برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام پروگرام منعقد
عالمی یوم خواتین پر بیگمات بھوپال کو یاد کیا گیا، برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام پروگرام منعقد

بھوپال: عالمی یوم خواتین کے موقع پر پورے ملک میں خواتین کی حقوق اور ان کی خدمات سے متعلق مختلف پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ وہیں مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ ممتاز اردو ادبیہ ڈاکٹر رضیہ حامد کی صدارت میں منعقدہ پروگرام میں بیگمات بھوپال کی ادبی، لسانی، شعری اور ایڈمنسٹریٹو خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔

برکت اللہ بھوپالی یوتھ فورم کے ذمہ دار انس علی کہتے ہیں کہ بھوپال میں یوں تو تیرہ نوابوں نے حکومت کی ہے، جس میں نو مرد اور چار بیگمات کے نام شامل ہیں، لیکن بھوپال کا روشن بیگمات بھوپال کے زمانے میں ہی لکھا گیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بیگمات بھوپال کو صرف حکمراں کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے بلکہ نئی نسل ان کے ادبی کارناموں سے بھی واقف ہو۔ یوم خواتین کے موقع پر ابھی تو ہم نے یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا، اس کے بعد جتنی بھی بیگمات بھوپال میں گزریں ہیں، سب پر علیحدہ علیحدہ پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔



ممتاز مورخ رضوان انصاری کہتے ہیں کہ موجودہ وقت میں اردو زبان کی بات بہت کی جاتی ہے، لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بھوپال کی دوسری خاتون فرمانروا نواب سکندر جہاں بیگم نے ہی متحدہ ہندستان میں اردو کو سب سے پہلے سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔ بھوپال کے 28 سال بعد ریاست حیدر آباد نے اردو کو اپنی سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔ بیگمات بھوپال صرف حکمراں ہی نہیں تھیں بلکہ وہ صاحب تصنیف بھی تھیں اور یہ وقت ایسا ہے کہ ادبی کارناموں پر زیادہ سے زیادہ بات کی جائے۔

سیمینارکی صدر ڈاکٹر رضیہ حامد کہتی ہیں کہ بیگمات بھوپال صاحب دیوان ہونے کے ساتھ صاحب تصنیف بھی تھیں۔ نواب شاہجہاں بیگم نے اس زمانے میں 6 زبانوں میں خزینۃ اللغات کے نام سے 6 زبانوں میں لغت لکھی تھی اور ان کے بیٹی نواب سلطان جہاں بیگم نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی چانسلر تھیں بلکہ انہوں نے مختلف موضوعات پر جو 42 کتابیں تصنیف کیں تھیں، وہ ہمارے ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہے۔ برکت اللہ یوتھ فورم کی کاوشیں قابل تحسین ہیں اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنا چاہئے۔

Nat
یوم خواتین کے موقعہ برکت اللہ یوتھ فورم کے زیر اہتمام یاد بیگمات بھوپال کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں جہاں بیگمات بھوپال کے علمی و ادبی کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ وہیں بیگمات بھوپال کے ذریعہ مندروں اور دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے لئے ریاست کی جانب سے دی گئی زمین اور یکجہتی کے فروغ پربھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر زبان وادب، تہذیب وثقافت کے میدان میں نمایاں کارنامہ انجام دینے والی خواتین کو اعزاز سے سرفرازکیا گیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 09, 2021 01:42 AM IST