உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس میں پردے کے پیچھے چھڑی "پرانے بنام نئے" کی لڑائی ، ایسے شروع ہوئی رسہ کشی

    کانگریس میں پردے کے پیچھے چھڑی "پرانے بنام نئے" کی لڑائی ، ایسے شروع ہوئی رسہ کشی

    کانگریس میں پردے کے پیچھے چھڑی "پرانے بنام نئے" کی لڑائی ، ایسے شروع ہوئی رسہ کشی

    کانگریس کے سینئر لیڈران یقینی بنانا چاہتے کہ چیزیں جوں کی توں رہیں اور بڑے اپنا اثر و رسوخ کو جاری رکھ سکیں ، لیکن نوجوان اور ٹیم راہل اب اپنے وقت کا انتظار کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب تبدیلی آئے ۔ اب سبھی کی نگاہیں پیر کی سی ڈبلیو سی کی میٹنگ پر ہیں ۔

    • Share this:
      کانگریس کے اندر نئی اتھل پتھل کے مرکز میں وہی پرانے بنام نئے کی لڑائی ہے ۔ سونیا گاندھی کے ساتھ راجیہ سبھا اراکین کی میٹنگ کے بعد یہ کہانی شروع ہوئی ۔ نوجوان راجیو ساتو ، جو راہل گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں ، نے سینئروں پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ یو پی اے کے وزرا پارٹی کو ٹوٹ کی کگار پر لے گئے اور انتخابی نقصان پہنچایا ۔ میٹنگ میں موجود جونیئر گاندھی اور ان کی بہن پرینکا واڈرا کے قریبی کئی نوجوان لوگوں نے بھی اسی طرح کی باتیں کہیں اور ان باتوں کی حمایت کی ۔ اس دورن یہ اشارہ کیا گیا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران سینئر لیڈروں نے راہل گاندھی کی زیادہ حمایت نہیں کی تھی ۔

      راجیو ساتو کو وضاحت جاری کرنے کیلئے مجبور کیا گیا تھا ، لیکن اس پر کافی سخت تبصرہ آیا ۔ کپل سبل اور کئی سینئروں نے اعتراض کیا اور ساتو اور نوجوان لیڈروں کے گروپ پر نشانہ سادھا گیا ۔ یہیں سے کچھ سینئروں کو پریشانی ہونی شروع ہوئی اور ان کے اسٹریٹجی بنانے کی بھی شروعات ہوئی ۔

      کانگریس میں آنند شرما ، بھوپیندر ہڈا اور کپل سبل سمیت چار سینئر لیڈران پریشان تھے اور پارٹی میں تبدیلی چاہتے تھے ۔ جو بات انہیں زیادہ پریشان کررہی تھی ، وہ یہ تھی کہ نوجوان انہیں پیچھے چھوڑ رہے تھے اور انہیں باہر نکالنے کیلئے تیار تھے ۔ اس لئے سونیا گاندھی کو لکھے ایک خط میں کئی کانگریس لیڈروں نے لکھا کہ ایک فیصلہ کن لیڈر اور کسی ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو زمین پر رہے ۔ لیڈروں نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست کی یونٹیں کمزور ہیں ۔ کوئی الیکشن نہیں کرائے جارہے اور بی جے پی سے لڑنے میں تنظیم اہل نہیں ہے ۔

       نوجوان اور ٹیم راہل اب اپنے وقت کا انتظار کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب تبدیلی آئے ۔
      نوجوان اور ٹیم راہل اب اپنے وقت کا انتظار کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب تبدیلی آئے ۔


      اس خط کے پیچھے کا ماسٹرمائنڈ اس وقت کئی دیگر لوگوں کے رابطے میں آیا اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے تقریبا ۳۰۳ لوگوں کے دستخط لئے ، جس میں پارٹی کارکنان اور ریاستی لیڈران اور کچھ سابق وزرائے اعلی شامل ہیں ۔ جب نیوز ۱۸ نے ویرپا موئیلی سے رابطہ کیا جو خط پر دستخط کرنے والوں میں سے ایک ہیں ، تو انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کا داخلی معاملہ ہے اور میں اس کو باہر نہیں اٹھانا چاہتا ۔

      ذرائع کے مطابق یہ سب منصوبہ بند ہے ۔ ایک مرتبہ پھر سے پارٹی کے سینئر لیڈروں کو لگا کہ انہیں آسانی سے باہر کیا جاسکتا ہے اور اس لئے انہوں نے اس معاملہ کو سونیا کی قیادت پر سوال کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ۔ اس طرح سے وہ یقینی بنانا چاہتے کہ چیزیں جوں کی توں رہیں اور بڑے اپنا اثر و رسوخ جاری کو رکھ سکیں ، لیکن نوجوان اور ٹیم راہل اب اپنے وقت کا انتظار کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب تبدیلی آئے ۔ اب سبھی کی نگاہیں پیر کی سی ڈبلیو سی کی میٹنگ پر ہیں ۔

      پلوی گھوش
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: