ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

West Bengal Election 2021: ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان اس لڑائی میں جیت اور ہار کا فیصلہ کرے گا جنوبی بنگال

West Bengal Assembly Elections 2021: گزشتہ چار ماہ کے دوران بنگال کی سیاسی تصویر تیزی سے تبدیل ہوئی ہے ۔ ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ ٹی ایم سی کے تین وزرا اور 14 ممبران اسمبلی نے پارٹی چھوڑ دی ہے جبکہ کئی وزرا اب بھی پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔

  • Share this:
West Bengal Election 2021: ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان اس لڑائی میں جیت اور ہار کا فیصلہ کرے گا جنوبی بنگال
ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان اس لڑائی میں جیت اور ہار کا فیصلہ کرے گا جنوبی بنگال

پانچ ریاستوں میں الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی ہر کسی کی نگاہیں مغربی بنگال پر مرکوز ہوگئی ہیں ۔ مانا جارہا ہے کہ اس مرتبہ یہاں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان آر پار کی لڑائی ہے جبکہ کانگریس اور لیفٹ اس جنگ میں پچھڑتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ ویسے تو بنگال کی تقریبا ہر سیٹ پر ممتا بنرجی اور بی جے پی کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہوگی ، لیکن کہا جارہا ہے کہ جیت اور ہار کا اصلی فیصلہ جنوبی بنگال میں ہوسکتا ہے ۔ اسمبلی کی 294 میں سے 218 سیٹیں اسی علاقہ میں ہیں ۔


جنوبی بنگال میں آنے والے علاقوں میں بیر بھوم مشرقی ، بیربھوم مغربی ، ہگلی ، ہاوڑہ مغرب اور مشرق ، مدنا پور ، بانکورہ ، پورولیا ، نادیا نارتھ اور ساوتھ ، 24 پرگنہ اور کولکاتہ آتا ہے ۔ ان علاقوں میں مسلم اور ہندی بولنے والے ہندووں کی تعداد کافی زیادہ ہے ۔ علاوہ ازیں یہاں بنگال کے میڈیکل کلاس کے لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔ بی جے پی ان علاقوں کے ووٹروں پر نظریں جمائے بیٹھی ہے ۔


گزشتہ چار ماہ کے دوران بنگال کی سیاسی تصویر تیزی سے تبدیل ہوئی ہے ۔ ممتا بنرجی کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ ٹی ایم سی کے تین وزرا اور 14 ممبران اسمبلی نے پارٹی چھوڑ دی ہے جبکہ کئی وزرا اب بھی پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔ جن وزرا نے پارٹی چھوڑ دی ہیں ، ان میں سب سے بڑا نام ٹرانسپورٹ کے وزیر سوبیندو ادھیکاری کا ہے ۔ اس کے علاوہ راجیب بنرجی ، سیون چٹرجی ، سبیہ ساچی دتہ اور سنیل منڈل جیسے بڑے نام بھی ہیں ۔


پارٹی میں بڑی توڑ پھوڑ کے باوجود ٹی ایم سی کو امید ہے کہ جب تک ممتا بنرجی ہیں ، اس وقت تک ان کے ووٹروں کو ان سے کوئی چھین نہیں سکتا ہے ۔ سال 2011 سے بنگال کی کمان ممتا بنرجی کے ہاتھوں میں ہی ہے ۔ پارٹی کی طرف سے دعوی کیا جارہا ہے کہ ممتا بنرجی ووٹروں سے براہ راست رابطے میں ہیں ۔ اس درمیان ممتا نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ اس مرتبہ دو سیٹوں سے الیکشن لڑیں گی ۔ اس مرتبہ وہ جنوبی کولکاتہ میں بھوانی پور کے علاوہ نندی گرام سے الیکشن لڑیں گی ۔ بتادیں کہ نندی گرام ، ہگلی اور سنگرور کا بنگال کی سیاست میں کافی خاص مقام ہے ۔ سال 2011 میں ممتا نے انہیں علاقوں میں آندولن کے بعد 34 سال بعد لیفٹ کی سرکار کو اکھاڑ پھینکا تھا ۔

مغربی بنگال میں جیتنے کیلئے حالیہ دنوں میں بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ ویسے تو بی جے پی نے یہاں اب تک وزیر اعلی کے عہدہ کے کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے ، لیکن پارٹی کے کئی لیڈران بنگال کا مسلسل دورہ کررہے ہیں ۔ لیڈروں کی اس فوج میں ٹی ایم سی سے بی جے پی میں شامل ہوئے دلیپ گھوش ، مرکزی وزیر بابل سپریو جیسے مقامی لیڈران بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں کیلاش وجے ورگیہ وہاں مسلسل زمینی سطح پر کام کررہے ہیں ۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران وزیر اعظم مودی سے لے کر وزیر داخلہ امت شاہ اور پھر بی جے پی صدر جے پی نڈا ہر کسی نے بنگال کا مسلسل دورہ کیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 27, 2021 09:59 AM IST