உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگلورو تشدد معاملہ: UAPA کا ہوگا استعمال، غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی ہوگی کارروائی

    بنگلورو تشدد معاملہ: UAPA کا ہوگا استعمال، غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی ہوگی کارروائی

    بنگلورو تشدد معاملہ: UAPA کا ہوگا استعمال، غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی ہوگی کارروائی

    11 اگست کی رات بنگلورو کے ڈی جے ہلی اور کے جے ہلی علاقوں میں پیش آئے تشدد کے واقعہ پر آج اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی۔ وزیر اعلی کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں ریاست کے وزیر داخلہ بسوراج بمئی، چیف سکریٹری، ایڈوکیٹ جنرل اور محکمہ داخلہ کے اعلی افسران موجود تھے۔

    • Share this:
    بنگلورو: 11 اگست کی رات بنگلورو کے ڈی جے ہلی اور کے جے ہلی علاقوں میں پیش آئے تشدد کے واقعہ پر آج اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی۔ وزیر اعلی کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں ریاست کے وزیر داخلہ بسوراج بمئی، چیف سکریٹری، ایڈوکیٹ جنرل اور محکمہ داخلہ کے اعلی افسران  موجود تھے۔ تشدد کے واقعہ کے بعد اب تک پولیس کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی جانکاری وزیر اعلی کو دی گئی اور میٹنگ کئی اہم فیصلے لئے گئے۔ میٹنگ کے بعد وزیر داخلہ بسوراج بمئی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ کی عدالتی کارروائی کیلئے 3 پبلک پراسکیوٹر نامزد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ تشدد میں ہوئے نقصان کی بھرپائی کیلئے Claim کمشنر کی نامزدگی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کیلئے  کرناٹک ہائی کورٹ کو عرضداشت پیش کی جائے گی۔

    سی بی آئی یا این آئی اے سے نہیں ہوگی جانچ

    وزیر داخلہ نے کہا کہ کیلم کمشنرکیلئے سپریم کورٹ کی ہدایات پہلے ہی سے موجود ہیں۔ اس معاملے میں UAPA  یعنی انسداد غیر قانونی سرگرمیوں کے ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔  وزیر داخلہ بسوراج بمئی نے کہا کہ اس معاملے میں فی الوقت سی بی آئی یا این آئی اے جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔ پولیس فائرنگ کی جانچ ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ کی جارہی ہے اور تشدد کے واقعہ کی جانچ پولیس کے ذریعہ ہو رہی ہے۔ محکمہ پولیس کے سینٹرل کرائم برانچ (سی سی بی) کے جوائنٹ کمشنر سندیپ پاٹل کی قیادت میں تشدد کے واقعہ کی جانچ ہورہی ہے۔ وزیر داخلہ بسوراج بمئی نے کہا کہ ان دو تحقیقات پر حکومت پابند ہے، کوئی اور ایجنسی سے جانچ کی فی الوقت ضرورت نہیں۔ اب تک اس معاملے میں 354 افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان میں ابتدائی جانچ کے بعد چند افراد ( جن کا تشدد سے تعلق نہیں) کو رہا کیا گیا ہے۔



    دوسری جانب بڑے پیمانے پر ہوئی گرفتاریوں پر اقلیتی طبقہ سخت تشویش کا اظہار کررہا ہے۔ گرفتار شدہ نوجوانوں کے رشتہ دار پولیس اسٹیشن، مقامی ایم ایل اے اور مسلم لیڈروں سے رجوع ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے کئی بے قصوروں کو گرفتار کیا ہے۔ سابق ریاستی وزیر ضمیر احمد خان نے کہا کہ اس معاملے میں جلد ہی مسلم لیڈروں کا ایک وفد وزیر اعلی سے ملاقات کرے گا۔

    نوین کو 14 دنوں کے لئے عدالتی تحویل میں
    فیس بک پر توہین آمیز مسیج پوسٹ کرنے والے ملزم نوین کی پولیس تحویل کے ختم ہونے کے بعد آج دوبارہ مقامی عدالت کے سامنے حاضر کیا گیا۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ 11 ویں اے سی ایم ایم کورٹ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ جج نے ملزم نوین کو 14 دنوں تک کیلئے عدالتی تحویل میں بھیجنے کا فیصلہ سنایا۔ وہیں اس پورے معاملے میں سیاست بھی خوب دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حقائق کا پتہ لگانے کیلئے کانگریس کی ٹیم نے پہلے فساد متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ جل کر تباہ ہوئے مقامی ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کے گھر پہنچ کر بات چیت کی۔ کانگریس کے بعد بی جے پی کی بھی ایک ٹیم نے تشدد زدہ علاقے کا دورہ کیا اور کانگریس کے مقامی ایم ایل اے سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ چونکہ مقامی ایم ایل اے کا تعلق دلت طبقہ سے ہے، بی جے پی کانگریس پر الزام عائد کررہی ہےکہ ووٹ بینک کیلئے پارٹی اپنے ہی دلت ایل اے کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔

    کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت کو اپنے ہی افسروں پر بھروسہ نہیں ہے، اسی لئے بی جے پی کی ٹیم کو فسادات کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا گیا ہے۔
    کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت کو اپنے ہی افسروں پر بھروسہ نہیں ہے، اسی لئے بی جے پی کی ٹیم کو فسادات کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا گیا ہے۔


    کانگریس نے عائد کیا یہ بڑا الزام

    دوسری جانب کانگریس کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے صدر جی پرمیشور نے کہا کہ دلت ایم ایل اے کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نےکہا کہ حکومت کی انٹلی جینس کی ناکامی کی وجہ سے تشدد برپا ہوا ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکومت کو اپنے ہی افسروں پر بھروسہ نہیں ہے، اسی لئے بی جے پی کی ٹیم کو فسادات کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا گیا ہے۔ مقامی ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی نے اس پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس نے ہائی کورٹ کے سٹنگ جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: