ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سی اے اے اور این آر سی کے خلاف بھارت بند کا جھارکھنڈ میں نظر آیا اثر ، سڑکوں پر اترے لوگ

مسلم اکثریت والی آبادی کےعلاقوں میں بڑی و چھوٹی دکانوں کے ساتھ ساتھ ٹھیلے اور فٹ پاتھ پر دکانیں لگانے والوں نے بھی اپنی دکانیں بند رکھیں ۔

  • Share this:
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف بھارت بند کا جھارکھنڈ میں نظر آیا اثر ، سڑکوں پر اترے لوگ
سی اے اے اوراین آر سی کے خلاف بھارت بند کا جھارکھنڈ میں نظر آیا اثر ، سڑکوں پر اترے لوگ

سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف بھارت بند کا جھارکھنڈ میں کہیں مکمل تو کہیں جزوی اثر نظر آیا ۔ وہیں کچھ مقامات پر کوئی بھی اثر نہیں دیکھا گیا۔ بہوجن کرانتی مورچہ کے زیر اہتمام بلائی گئی اس پر امن بند کو جھارکھنڈ میں کئی سماجی تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ ان میں آدیواسی جن پریشد اور آدیواسی چھاتر سنگھ جیسی تنظیمیں بھی شامل ہیں ۔ ریاست کے دارالحکومت رانچی ، گھاٹشلہ ، گڑھوا ، گریڈیہ ، دھنباد ، دیوگھر و دیگر شہروں میں لوگ بند کی حمایت میں سڑکوں پر اترے ۔ رانچی کے کانکے میں درجنوں بند حامیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ بند کے پیش نظر ریاست کے مختلف شہروں میں تحفظ کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔


دارالحکومت رانچی میں تمام مذاہب کے لوگوں نے اپنی دکانیں بند رکھیں ۔ مسلم اکثریت والی آبادی کےعلاقوں میں بڑی و چھوٹی دکانوں کے ساتھ ساتھ ٹھیلے اور فٹ پاتھ پر دکانیں لگانے والوں نے بھی اپنی دکانیں بند رکھیں ۔ ریاست میں پرامن طریقہ سے بند کا اہتمام کیا گیا ۔ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی خبر نہیں ہے ۔ لوگوں نے اپنی دکانیں اپنی رضامندی سے بند رکھیں۔ سڑکوں پر گاڑیاں عام دنوں کے مقابلے کم دیکھی گئیں ۔ رانچی سے لمبی دوری کے لئے سفر کرنے والی گاڑیاں مکمل طور پر بند رہیں ۔ شہر میں اسکول و کالج کھلے نظر آئے اور ساتھ ہی ساتھ ہی ضروری اشیا کی دکانیں بھی کھلی رہیں۔


بند کے تعلق سے مجلس علما کونسل کے سکریٹری مفتی عبیداللہ قاسمی نے کہا کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ، جس دوران انہوں نے دیکھا کہ شہر کی بیشتر دکانیں بند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان میں ہندو بھائیوں نے بھی تعاون کیا اور بند میں ساتھ دیا ۔ جھارکھنڈ مسلم مورچہ کے صدر اعظم احمد نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم اور آدیواسی بھائی بھی متاثر ہوں گیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر مذہب کے لوگوں نے بند کی حمایت میں اپنا بھرپور تعاون پیش کیا ، جس کیلئے انہوں نے سبھی لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا ۔


رانچی کے کانکے میں درجنوں بند حامیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ تصویر : نوشاد عالم ۔
رانچی کے کانکے میں درجنوں بند حامیوں کو حراست میں لیا گیا ۔ تصویر : نوشاد عالم ۔


وہیں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے رکن عقیل الرحمان نے مرکزی حکومت کے اس قانون کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے 95 فیصد لوگ اس کالے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ سی پی آئی کے لیڈر بھوونیشور کیوٹ نے کہا کہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت ملک کے تمام طبقہ کے لوگوں کی ذریعہ کی جاری ہے ۔

انہوں نے آسام میں این آر سی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آسام میں 16 لاکھ ہندووں کو این آر سی سے باہر کر دیا گیا ، جس کی وجہ سے وہ تمام سرکاری سہولتوں سے محروم ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کالے قانون کے ذریعہ ملک کو بانٹنے کی سازش کی جاری ہے ۔ ساتھ ہی اس معاملہ کو لے کر ملک کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش ہو رہی ہے ۔ بھونیشور کیوٹ نے اس قانون کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

وہیں ماسس لیڈرسوسانتو مکھرجی نے کہا کہ این پی آر کے ذریعہ دستاویز مانگنے کی جو بات کی جارہی ہے ، اس کے پس پردہ این آر سی کے تحت باہر کا راستہ دکھانے کی سازش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے ۔ سوسانتو مکھرجی نے کہا کہ حکومت کے اسی غلط منشا کی وجہ سے وہ مخالفت میں آوازیں بلند کررہے ہیں ۔
First published: Jan 29, 2020 06:34 PM IST