உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھارت بند : دہلی میں متاثر ہوسکتا ہے ٹریفک نظام ، پھل سبزیوں کی سپلائی پر بھی اثر پڑنے کا امکان

    بھارت بند : دہلی میں متاثر ہوسکتا ہے ٹریفک نظام ، پھل سبزیوں کی سپلائی پر بھی اثر پڑنے کا امکان

    بھارت بند : دہلی میں متاثر ہوسکتا ہے ٹریفک نظام ، پھل سبزیوں کی سپلائی پر بھی اثر پڑنے کا امکان

    مرکز کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے بھارت بند کی سبھی سیاسی پارٹیاں اور تنظیمیں حمایت کررہی ہیں ، جس کی وجہ سے دہلی میں ٹریفک نظام کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اشیا کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے ۔

    • Share this:
      مرکزی حکومت سے تین نئے زرعی قوانین کو رد کرنے کا مطالبہ کررہے کسان تنظیموں کے ذریعہ کئے گئے بھارت بند کے اعلان میں کیب ڈرائیوروں اور منڈی کاروباریوں کی کئی یونین نے بھی شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کی وجہ سے منگل کو شہر میں ٹریفک نظام اور پھلوں و سبزیوں جیسی ضروری اشیا کی سپلائی میں خلل پڑسکتا ہے ۔ حالانکہ دہلی پولیس نے وارننگ دی ہے کہ جو بھی لوگوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے یا دکانوں کو زبردستی بند کرانے کی کوشش کرے گا ، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ آپ کو بتادیں کہ کچھ ٹیکسی اور کیب یونین نے ایک دن کی ہڑتال میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کاروباریوں کا ایک گروپ بھی کسانوں کے مطالبہ کی حمایت کررہا ہے ، جس کی وجہ سے بڑی سبزی اور پھل منڈیوں میں کام متاثر ہوسکتا ہے ۔

      بہر حال آزاد پور منڈی کے صدر عادل خان نے کہا کہ مجھے کئی کاروباری یونینوں نے منگل کی ہڑتال کو لے کر فون کئے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ غازی پور ، اوکھلا اور نریلا کی منڈیاں کسانوں کے بھارت بند کی وجہ سے بند رہیں گی ۔ خان نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کو کھانا دینے والے کسانوں کی حمایت کریں ۔

      ادھر منگل کو اولا ، اوبر اور ایپ پر مبنی دیگر ٹیکسی سروسیز سے وابستہ ڈرائیور بھی اپنی خدمات نہیں دیں گے ۔ وہیں دہلی ٹیکسی ٹورسٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے سربرہ سنجے سمراٹ نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی اسٹیٹ ٹیکسی کو آپریٹیو سوسائٹی اورقومی ایکتا ویلفیئر ایسوسی ایشن سمیت کئی یونین ہڑتال میں شامل ہوں گے ۔ حالانکہ کئی دیگر آٹو اور ٹیکسی یونین نے کسانوں کے مطالبہ کی حمایت کرنے کے باوجود سروسیز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

      دوسری طرف کسان لیڈر ڈاکٹر درشن پال نے کہا کہ کل پورے دن بھارت بند رکھا جائے گا ۔ دوپہر تین بجے تک چکہ جام رہے گا ، لیکن یہ ایک پرامن بند ہوگا ۔ سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ بھارت بند کی حمایت کئے جانے پر پال نے کہا کہ ہم اپنے اسٹیج پر کسی بھی سیاسی لیڈر کو اجازت نہیں دینے پر قائم ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: