உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھارت بند کے دوران بنگال سے پنجاب تک جگہ جگہ ریل پٹریوں پر کسانوں کا احتجاج، کئی ٹرینیں منسوخ

    بھارت بند کے دوران بنگال سے پنجاب تک جگہ جگہ ریل پٹریوں پر کسانوں کا احتجاج، کئی ٹرینیں منسوخ

    بھارت بند کے دوران بنگال سے پنجاب تک جگہ جگہ ریل پٹریوں پر کسانوں کا احتجاج، کئی ٹرینیں منسوخ

    تمل ناڈو، چھتیس گڑھ، کیرلا، پنجاب، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش کی ریاستی حکومتوں نے بھارت بند کو اپنی حمایت دی ہے۔ جوائنٹ کسان مورچہ کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو کہا کہ سبھی تاجروں اور دوکانداروں کو بند کی حمایت کرنی چاہئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: زرعی قوانونین واپس لئے جانے سے متعلق آج بھارت بند کے دوران لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مغربی بنگال سے پنجاب تک جگہ جگہ ریل پٹریوں پر کسانوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔ اس دوران کئی ٹرینیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ دہلی - گرو گرام بارڈر پر لمبا جام لگ گیا ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔ دہلی سرحد پر پہنچے کسانوں نے کہا ہے کہ وہ بند کو حمایت دینے کے لئے کئی کلو میٹر پیدل چل کر یہاں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کو نہیں سن رہی ہے۔ ان سب نے کہا کہ اگر کسان مایوس ہیں تو لوگ کیسے خوش ہوسکتے ہیں۔ ایک دن کی پریشانی ہم جھیل سکتے ہیں، ہمارے لیڈر راہل گاندھی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔



      اس درمیان جوائنٹ کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے نئے زرعی قوانین کے ایک سال مکمل ہونے پر اس بھارت بند کو بلایا ہے۔ کسان تنظیمیں چاہتی ہیں کہ حکومت تین نئے زرعی قوانین کو فوراً واپس لے۔ گزشتہ سال ملک کے کئی ریاستوں میں اس نئے قانون کے خلاف کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ شروع ہوا تھا۔ آج کسان آندولن کو 300 دن بھی پورے ہو رہے ہیں۔ جوائنٹ کسان مورچہ میں کل 40 کسان تنظیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سیاسی جماعتوں نے بھی اس بند کی حمایت کی ہے۔ 10 گھنٹے کا یہ بند آج صبح 6 بجے سے شروع ہوگیا ہے۔ کئی ریاستوں میں پولیس نے کسان تنظیموں کے اس بند کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر سیکورٹی کے انتظامات کئے ہیں۔

      بھارت بند کے دوران دہلی کی سرحد پر غازی پور میں ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔ کسان تنظیمیں یہاں احتجاج کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی - ہریانہ سرحد کے کچھ حصوں کو بند کردیا گیا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس نے یوپی- غازی پور سرحد کو لے کر الرٹ جاری کیا ہے۔ وہیں دوسری طرف بھارت بند کا اثر بہار کی راجدھانی پٹنہ اور آرا میں دکھائی دینے لگا ہے۔ یہاں آر جے ڈی کے لیڈران سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ جس کے بعد گاندھی سیتو جام ہوگیا ہے۔



      ہریانہ میں شاہ آباد کے پاس دہلی - امرتسر نیشنل ہائی وے کو کسانوں نے جام کر دیا ہے۔ دہلی پولیس نے بھارت بند کو دیکھتے ہوئے اضافی سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر (نئی دہلی) دیپک یادو نے کہا کہ بھارت بند کے مدنظر احتیاط کے طور پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر کی سرحدوں پر تین احتجاجی مقامات سے کسی بھی احتجاج کرنے والے شخص کو دہلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

      راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ ہم ایمرجنسی خدمات نہیں روک رہے ہیں۔ بھارت بند سے حکومت کو پیغام دے رہے ہیں۔
      راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ ہم ایمرجنسی خدمات نہیں روک رہے ہیں۔ بھارت بند سے حکومت کو پیغام دے رہے ہیں۔


      کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے کہا کہ سبھی تاجروں اور دوکانداروں کو بند کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راستے بند رہیں گے، لیکن اگر کوئی ڈاکٹر کے کلینک جانا چاہتا ہے تو جاسکتاہ ے۔ ایمبولینس، سبزی اور دودھ کی گاڑیاں چلیں گی۔ انہوں نے کہا، ’ہم بند کے دوران دہلی کے اندر نہیں جائیں گے۔ یہ عام لوگوں کا احتجاج ہے۔ لوگوں کو ایک دن کی چھٹی لینی چاہئے اور چار بجے کے بعد ہی گھر سے باہر نکلنا چاہئے۔ راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ ہم ایمرجنسی خدمات نہیں روک رہے ہیں بلکہ بھارت بند سے حکومت کو پیغام دے رہے ہیں۔



      جوائنٹ کسان مورچہ کے مطابق، اس دوران پورے ملک میں سبھی سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی اور دیگر ادارے، دوکانیں، صنعت اور تجارتی اداروں ک ساتھ ساتھ عوامی تقریبات اور پروگرام بند رہیں گے۔ تنظیم نے کہا کہ بھارت بند پُرامن ہوگا اور کسان یہ یقینی بنائیں گے کہ عوام کو کم از کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ تمل ناڈو، چھتیس گڑھ، کیرلا، پنجاب، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش کی ریاستی حکومتوں نے بھارت بند کو اپنی حمایت دی ہے۔ جوائنٹ کسان مورچہ کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو کہا کہ سبھی تاجروں اور دوکانداروں کو بند کی حمایت کرنی چاہئے۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی)، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی، آل انڈیا فارورڈ بلاک، ریولیشنری سوشلسٹ پارٹی جیسی بائیں بازو کی پارٹیوں نے بھارت بند کو اپنی حمایت دی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: