உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    COVID-19:بوسٹر ڈوز کی تیاری میں بھارت بائیوٹیک، اپنی نیزل ویکسین کے تیسرے کلینکل ٹرائل کی مانگی منظوری

    کورونا کے خلاف بھارت بائیو ٹیک کی استعمال ہورہی ویکسین کووی شیلڈ اور کوویکسن۔ (علامتی تصویر)

    کورونا کے خلاف بھارت بائیو ٹیک کی استعمال ہورہی ویکسین کووی شیلڈ اور کوویکسن۔ (علامتی تصویر)

    نیوز ایجنسی اے این آئی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے پیر کو یہ اطلاع دی۔ اس ویکسین کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اُن سبھی لوگوں کو دی جاسکتی ہے، جنہوں نے کو ویکسین اور کووی شیلڈ (Covaxin & Covishield) دونوں میں سے کوئی بھی ٹیکہ لگوایا ہو۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بھارت بائیوٹیک (Bharat Biotech) نے ناک کے ذریعے دی جانے والی کوویڈ ویکسین (Intranasal Covid Vaccine) کی بوسٹر ڈوز کے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل کے لئے ڈی سی جی آئی کے پاس درخواست دی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے پیر کو یہ اطلاع دی۔ اس ویکسین کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اُن سبھی لوگوں کو دی جاسکتی ہے، جنہوں نے کو ویکسین اور کووی شیلڈ (Covaxin & Covishield) دونوں میں سے کوئی بھی ٹیکہ لگوایا ہو۔

      بھارت بائیوٹیک کے صدر اور منیجنگ ڈائریکٹر کرشنا ایللا نے گزشتہ 10 نومبر کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں ناک سے دئیے جانے والے ٹیکے (Nasal Vaccine) کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بوسٹر ڈوز (Booster Dose) کے تعلق سے کہا تھا کہ کوویڈ-19 مخالف ٹیکے کی دوسری خوراک کے چھ مہینے بعد ہی تیسری خوراک دی جانی چاہیے، یہی سب سے مناسب وقت ہے۔

      کتنا اہم ہے ’نیزل ویکسین‘
      ’نیزل ویکسین‘ کی اہمیت کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا ایسے ٹیکے چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا، ’’وبا کے پھیلاو کو روکنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ ہر کوئی ’ایمیونولاجی‘کا پتہ لگانے کی کوشش کررہا ہے اور خوش قسمتی سے، بھارت بائیوٹیک نے اس کا پتہ لگا لیا ہے۔‘‘

      ایللا نے کہا تھا، ’’ ہم ناک سے دینے والا ٹیکہ لارہے ہیں۔۔۔ ہم اس بات پر غور کررہے ہیں کہ کیا کوویکسین کی دوسری خوراک کو ناک سے دیا جاسکتا ہے، یہ سائنسی طور سے بھی بہت اہم ہے کیونکہ دوسری خوراک کو اگر آپ ناک سے دیتے ہیں تو آپ انفیکشن کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔‘‘

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: