உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تین نومبر کو ملے گی منظوری! اہم میٹنگ سے پہلے ڈبلیو ایچ او کو بھارت بایوٹیک نے سونپا اضافی ڈیٹا

    تین نومبر کو اہم میٹنگ سے پہلے ڈبلیو ایچ او کو بھارت بایوٹیک نے سونپا اضافی ڈیٹا

    تین نومبر کو اہم میٹنگ سے پہلے ڈبلیو ایچ او کو بھارت بایوٹیک نے سونپا اضافی ڈیٹا

    Covaxin WHO Approval: ہندوستان کے ذریعہ ملک میں تیار کورونا ویکسین کوویکسین کو ڈبلیو ایچ او کی منظور کیلئے تین نومبر کو اہم میٹنگ ہونے جارہی ہے ۔ اس سے پہلے بھارت بایو ٹیک نے عالمی صحت تنظیم کو کوویکسین کا اضافی ڈیٹا سونپ دیا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستان کے ذریعہ ملک میں تیار کورونا ویکسین کوویکسین کو ڈبلیو ایچ او کی منظور کیلئے تین نومبر کو اہم میٹنگ ہونے جارہی ہے ۔ اس سے پہلے بھارت بایو ٹیک نے عالمی صحت تنظیم کو کوویکسین کا اضافی ڈیٹا سونپ دیا ہے ۔ دراصل ڈیٹا ڈبلیو ایچ او کے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے مانگا تھا ۔ اس گروپ کے پاس کسی بھی ویکسین کو ایمرجنسی استعمال کیلئے لائسنس دینے کا اختیار ہوتا ہے ۔ گروپ نے 26 اکتوبر کی میٹنگ میں بھارت بایوٹیک سے اضافی ڈیٹا مانگے تھے ، جس سے آخری تجزیہ کیا جاسکے ۔

      معاملہ کی جانکاری رکھنے والے سرکار کے ذرائع کے مطابق جس اضافی ڈیٹا کا مطالبہ کیا گیا تھا اس میں 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا امیونوزیناسٹی ڈیٹا بھی شامل تھا ۔ اس کے علاوہ جینڈر کے مطابق بھی ڈیٹا کی مانگ کی گئی تھی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے مطالبہ پر بھارت بایوٹیک نے یہ ڈیٹا سونپ دیا ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ اب تین نومبر کو کوویکسین کو منظوری مل سکتی ہے ۔

      بھارت بایو ٹیک نے گزشتہ چھ جولائی کو ڈبلیو ایچ او کو پہلا ڈوزیئر سونپا تھا۔ اس کے بعد 27 ستمبر کو کمپنی نے اضافی ڈیٹا جمع کروائے تھے ۔ عالمی صحت تنظیم کہہ چکا ہے کہ ویکسین کو منظوری دینے کے عمل میں ضروری باتوں کی اندیکھی نہیں کرسکتا ۔ منظوری کارروائی اس بات پر منحصر ہے کہ فارما کمپنی کتنی جلدی ڈیٹا مہیا کرا دیتی ہے ۔

      ڈبلیو ایچ او نے اب تک دنیا کی سات کورونا ویکسین کو ایمرجنسی استعمال کیلئے منظوری دی ہے ۔ تنظیم کے اسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ نے پہلے ہی کوویکسین کا جائزہ لے لیا ہے ۔

      گزشتہ ہفتہ ملک کے مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈویہ نے بھی کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کا ایک سسٹم ہے ، جس میں ٹیکنیکل کمیٹی ہے ، جس کو کوویکسین کو منظوری دینی ہے ۔ بتادیں کہ ڈبلیو ایچ او کی منظوری کے انتظار کے درمیان کچھ ممالک نے کوویکسین کو اپنے یہاں منظوری دیدی ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ سفر کو آسان بنانے کیلئے کیا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: