உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیرلا میں مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا، Muslim Dancer نے سوشل میڈیا پر بتائی درد بھری داستاں

    مسلم ڈانسر کو کیرلا میں مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا۔

    مسلم ڈانسر کو کیرلا میں مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا۔

    Muslim dancer stop to performance in temple: کیرلا (Kerala) کی ایک مسلم ڈانسر کو مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا۔ حالانکہ اسے پرفارم کرنے کے لئے مدعو گیا تھا، لیکن بعد میں اسے منع کردیا گیا۔ یہ معاملہ کیرلا کے تریسور ضلع کا ہے، جہاں بھرتناٹیم ڈانسر مانسیا وی پی کو ارنزالکوڈا (Irinjalakuda) مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان سیکولر (Secular) ملک ہے۔ ہماری تہذیب وثقافت میں رواداری (tolerance culture) ہماری خاص پہچان ہے۔ پوری دنیا میں اسی کے لئے ہم جانے جاتے ہیں، لیکن گزشہ کچھ سالوں میں لوگ عدم روادار ہونے لگے ہیں۔ کیرلا میں ایک مسلم لڑکی نے بھرتناٹیم (ڈرامہ) میں اپنی مہارت حاصل کی اور اب اس میں وہ پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ کئی اسٹیجوں پر ان کی پیشکش نایاب رہی ہے، لیکن یہ بات شدت پسندوں کو راس نہیں آرہی ہے۔ پہلے اسلامی مذہبی رہنماوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا گیا اور اب ایک مند میں ان کی پیشکش کو روک دیا گیا ہے۔

      یہ معاملہ ہے کیرلا (Kerala) کے تریسور (Thrissur) ضلع کا، جہاں بھرتناٹیم ڈانسر مانسیا وی پی کو ارنزالکوڈا (Irinjalakuda) مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ مندر کیرلا حکومت کے زیر کنٹرول دیوسوم بورڈ چلاتا ہے۔ مانسیا نے فیس بک پر اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہیں غیر ہندو ہونے کی وجہ سے مندر میں پرفارم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کے ساتھ اس طرح کا واقعہ کوئی نیا نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ماں-بیٹی میں فرق کرنا آسان نہیں، ایک نظر میں دیکھنے والے ہوجاتے ہیں کنفیوز...

      غیر ہندو کے لئے اسٹیج پر جگہ نہیں

      اس سے قبل بھرت ناٹیم میں پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر مانسیا کو مسلم فیملی میں پیدا ہوکر کلاسیکی رقص کی پرفارمنس نے اسلامی علماء کی طرف سے برہمی اور بائیکاٹ کا باعث بنا۔ مانسیا نے اپنے فیس بک پوسٹ میں لکھا، میرا ڈانس کا پروگرام مندر میں 21 اپریل کو طے تھا، لیکن مندر کے ایک افسر نے مجھے مطلع کیا کہ آپ پرفارم نہیں کرسکتیں کیونکہ میں غیر ہندو ہوں۔ اسٹیج پر مذہبی بنیاد پر پرفارم کے لئے منظوری ملی ہے۔ چاہے آپ اچھی رقاصہ ہوں یا نہیں ہوں، لیکن آپ پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      'The Kashmir Files' کو لے کر نواز الدین صدیقی نے وویک اگنی ہوتری کے لئے کہہ دی یہ بڑی بات

      ہندو سے شادی کرنے پر بھی سوال

      مانسیا کی مشکلات یہیں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ اب ان سے یہ بھی سوال پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا آپ نے مذہب تبدیل کرکے ہندو مذہب کو اپنالیا ہے۔ مانسیا نے ہندو گلوکار شیام کلیان سے شادی کی ہے۔ مانسیا نے بتایا، میرا کوئی مذہب نہیں ہے، اب آپ ہی بتائیں میں کہاں جاوں۔ مانسیا نے بتایا کہ ان کے ساتھ اس طرح کا حادثہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک بار گرووایور شری کرشن مندر میں انہیں پرفارم کرنے سے روکا گیا تھا۔

      مانسیا نے کہا، فن اور فنکار کے سامنے ہمیشہ مذہب اور ذات پات کے بندھنوں میں دیکھا جاتا ہے۔ کبھی یہ کسی مذہب کے لئے ممنوع ہوجاتا ہے تو کوئی مذہب اس پر اپنا تسلط اور دبدبہ دکھانے لگتا ہے۔ یہ تجربہ میرے لئے نیا نہیں ہے۔ میں اس معاملے کو صرف اس لئے فیس بک پر رکھ رہی ہوں کیونکہ اس سے میرے سیکولر کیرلا میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: