உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی اور یوپی کے بعد Bhiwani میں سامنے آیا فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ، مزار منہدم کرنے کا ویڈیو وائرل ہوا

    دہلی اور یوپی کے بعد بھوانی میں سامنے آیا فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ

    دہلی اور یوپی کے بعد بھوانی میں سامنے آیا فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ

    Bhiwani News: دہلی اور یوپی کے بعد بھوانی میں سامنےفرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں پر مزار کو توڑ کرہنومان کی مورتی لگانے کے الزام لگائے گئے ہیں۔ پولیس جانچ کر رہی ہے کہ یہاں پر مندر تھا یا مزار۔ وہیں دوسری طرف بجرنگ دل کے نوجوانوں کے ذریعہ مزار توڑنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ 

    • Share this:
      بھوانی: دہلی اور یوپی کے بعد ہریانہ کے بھوانی ضلع میں فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک مزار کو توڑ کرکے وہاں ہنومان کی مورتی لگا دی گئی ہے۔ اس پورے حادثے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خواب وائرل ہو رہا ہے۔ ایس پی کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔

      اطلاعات کے مطابق، پورا حادثہ ڈھانا روڈ کا ہے، جہاں ہنومان جینتی کے دن بجرنگ دل کے کچھ نوجوان ایک مزار کو توڑتے ہیں اور وہاں ہنومان کی مورتی نصب کردیتے ہیں۔ کچھ نوجوان حادثہ کا ویڈیو بناتے ہیں، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس عمارت میں مزار کو توڑ کر ہنومان کی مورتی لگائی جاتی ہے، اس پر مندر کے افتتاح کا پتھر بھی لگا دیا گیا ہے۔ اب یہ مندر تھا یا مزار، پولیس اس کی جانچ کر رہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      آندھرا پردیش: کرنول میں ہنومان جینتی کے موقع پر مسجد کے پاس نعرے بازی سے کشیدگی 

      مندر ہے یا مزار، پولیس کر رہی ہے جانچ

      اس پورے معاملے پر بھوانی کے ایس پی اجیت سنگھ شیخاوت نے کہا کہ انہیں ڈائل 112 سے اطلاع ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کا مالک اور مندر بنانے والا ہندو برادری سے ہے۔ وہاں مندر کے افتتاح کا پتھر بھی لگا ہے۔ ایسے میں جانچ کے بعد پتہ چلے گا کہ یہ مندر ہے یا مزار۔

      اب پولیس جانچ کے بعد ہی سچائی سامنے آئے گی، لیکن اس طرح کے حادثات کسی بھی سماج کے مفاد میں نہیں، کیونکہ کوئی بھی مذہب آپس میں لڑنا نہیں سکھاتا۔ ایسے میں کسی بھی تنازعہ کا حل لڑائی کے بجائے سماجی یا قانونی طور سے ہوتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: