ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال بدھ وہار دھام سے خیر سگالی کی چادر کی گئی روانہ

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا آٹھ سو نواں عرس مبارک شروع ہوگیا ہے۔ عرس میں شرکت کے لئے ملک بھر سے زائرین کا جوق در جوق پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ ملک میں ابھی بھی کورونا کی بیماری جاری ہے، اس کے باوجود عقیدت مند کووڈ -19کی احتیاطی تدابیر اور حکومت کے احکام کے بیچ خواجہ کے آساتنہ عالیہ پر پہنچ کر اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

  • Share this:
بھوپال بدھ وہار دھام سے خیر سگالی کی چادر کی گئی روانہ
بھوپال بدھ وہار دھام سے خیر سگالی کی چادر کی گئی روانہ

بھوپال: صوفی سنتوں کا ملک ہے۔ صوفیا نے اس ملک میں صلح کل کی جو تعلیم دی ہے، اس کے روشن نقوش آج بھی نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیا کے آستانے پربلا لحاظ قوم و ملت سبھی لوگ اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔صوفیا کے آستانوں پر لوگ روتے ہوئے آتے ہیں اور اپنی مرادوں کی جھولیاں بھر کے واپس جاتے ہیں۔ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا آٹھ سو نواں عرس مبارک شروع ہوگیا ہے۔ عرس میں شرکت کے لئے ملک بھر سے زائرین کا جوق در جوق پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ ملک میں ابھی بھی کورونا کی بیماری جاری ہے، اس کے باوجود عقیدت مند کووڈ -19کی احتیاطی تدابیر اور حکومت کے احکام کے بیچ خواجہ کے آساتنہ عالیہ پر پہنچ کر اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال بھی خواجہ کے ارادتمندوں میں شامل ہے۔ کووڈ-19 کے سبب حالانکہ عقیدتمند پہلی جیسی تعداد میں عرس میں شرکت کے لئے نہیں جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود زائرین کی اتنی بڑی تعداد اجمیر کو روانہ ہو رہی ہے کہ ٹرینوں میں ریزرویشن ٹکٹ موجود نہیں ہیں۔ بھوپال نوابوں کی نگری کے ساتھ یکجہتی کا بھی شہر ہے۔ سلطان الہند خواجہ نواز رحمۃ اللہ علیہ کے 809 ویں  عرس کےلئے بھوپال بدھ دھام سے خیر سگالی کی چادر روانہ کی گئی۔ عقیدتمند ہندوستان کی یکجہتی اور ترقی کے لئےخواجہ کی تعلیمات کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کرتے ہیں۔



خواجہ کے ہندو عقیدتمند مہیندر پرساد شرما کہتے ہیں کہ یہ آستانہ ہے، جہاں سب کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ من تو بہت تھا کہ آستانہ پر حاضری دیتے مگر کووڈ راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ جب ہمیں معلوم ہوا کہ بدھ دھام سے خیر سگالی کی چادر جا رہی ہے، تو ہم بھی دوڑے دوڑے آئے کہ ہمارا بھی ہاتھ اس میں شامل ہو جائے اور جب یہ خواجہ کے آستانہ پر پیش کی جائے تو ہماری مرادیں بھی اس میں شامل ہو جائیں۔ بس خواجہ سے یہی دعا ہے کہ ہمارے ملک کو دشمن کی نظر بد سے بچالے اور پیارکی گنگا ہر طرف بہتی ہے۔

عیسائی مذہبی رہنما فادر آنند مٹنگل کہتے ہیں کہ بھارت کی یہی خوبی پوری دنیاسے الگ کرتی ہے کہ یہاں پر لوگ اپنے اپنے مذہب پر رہتے ہوئے دوسرے مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ خیر سگالی چادر اجمیر کے لئے بھیجی جا رہی ہے، جس میں سبھی مذاہب کے لوگوں نے شرکت کی ہے۔ بس یہی دعا کہ خواجہ کی نظر ہوجائے اور ہندوستان میں خوشحالی پھر واپس آجائے، کورونا کی وبائی بیماری کا خٓاتمہ ہو۔


بدھ مذہبی رہنما بنتے راہل پترکہتے ہیں کہ خواجہ اجمیری بڑے سنت ہوئے ہیں اور ان کی تعلیم میں لوگوں کی بڑی آستھا ہے۔ سدبھاؤنا منچ کے ذریعہ اجمیر کے لئے چادر بھیجی جا رہی ہے۔ خواجہ نے بھی امن و شانتی کا پیغام دیا ہے، بدھ مذہب بھی دنیا کو اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے۔
سدبھاؤنا منچ کے سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ صوفی سنتوں کے دیش میں صوفیا کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ سدبھاؤنا منچ بلا لحاظ قوم وملت سبھی کو جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ خواجہ کا 809واں عرس شروع ہوگیا ہے، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سب کی مرادوں کی چادر پیش ہوں اور بھوپال میں اس میں پیچھے رہ جائے۔ بھوپال بدھ وہار دھام سے خیر سگالی کی چادر بھیجی جا رہی ہے۔ اب اتحاد کی اس سے روشن مثال کیا ہوسکتی ہے کہ چادر خواجہ کے آستانہ کے لئے بھیجی جا رہی ہے، مگر یہ چادر بھوپال بدھ وہار دھام سے روانہ کی جارہی ہے۔ خواجہ نے امن و اتحاد کا جو پیغام دیا تھا، اسی پیغام کو لےکر چادر روانہ کی جا رہی ہے۔ 17 فروری کو چادر پیش کی جائے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 15, 2021 11:33 PM IST