ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش اسمبلی کو لگی کورونا کی نظر، مانسون اجلاس ملتوی، کل جماعتی میٹنگ میں ہوا فیصلہ

مدھیہ پردیش میں کورونا کے قہرکا اثر صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے اسمبلی ایوان پر بھی پڑا ہے۔ 20 جولائی سے شروع ہونے والی اسمبلی کے مانسون سیشن کو لےکر جہاں بی جے پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی ایک دوسرے کو گھیرنے کے لئے آستین چڑھائے پھر رہے تھے، اب کورونا کے بڑھتے قہر کے سبب انہیں یہ موقع نہیں ملےگا۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش اسمبلی کو لگی کورونا کی نظر، مانسون اجلاس ملتوی، کل جماعتی میٹنگ میں ہوا فیصلہ
مدھیہ پردیش اسمبلی کو لگی کورونا کی نظر، مانسون اجلاس ملتوی، کل جماعتی میٹنگ میں ہوا فیصلہ

بھوپال: مدھیہ پردیش میں کورونا کے قہرکا اثر صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے اسمبلی ایوان پر بھی پڑا ہے۔ 20 جولائی سے شروع ہونے والی اسمبلی کے مانسون سیشن کو لےکر جہاں بی جے پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی ایک دوسرے کو گھیرنے کے لئے آستین چڑھائے پھر رہے تھے، اب کورونا کے بڑھتے قہر کے سبب انہیں یہ موقع نہیں ملےگا۔ اسمبلی کا مانسون سیشن اس لئے بھی اہم تھا کہ اس سیشن میں مدھیہ پردیش حکومت سال 21-2020 کا بجٹ پاس کرنے والی تھی۔ کمل ناتھ حکومت نے پہلے بجٹ سیشن کی تیاری کی تھی، اس سے پہلے کی بجٹ اسمبلی میں پیش ہوتا، کمل ناتھ حکومت کی اقتدار سے باہر ہوگئی۔ اس بار شیوراج سنگھ حکومت نے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون سیشن 20 جولائی سے شروع ہونا تھا۔ اسمبلی سیشن کو لے کر بی جے پی اور کانگریس نے اپنے اراکین اسمبلی کی میٹنگ کرکے پوری تیاری بھی کر لی تھی۔حکومت  اور اپوزیشن نے ایک دوسرے کو گھیرنے کی تیاری بھی کی تھی اور اس کے لئے خوب ہوم ورک بھی کیا گیا تھا، لیکن یہاں تو قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پروٹم اسپیکر رامیشور شرما نے کورونا کے قہر کے درمیان اسمبلی سیشن کو لےکر جب کل جماعتی میٹنگ کا انعقادکیا تو اس میں سبھی سیاسی جماعتوں کے سیاسی لیڈروں نے کورونا کے قہر کو دیکھتے ہوئے اسمبلی سیشن کو ملتوی کئے جانےکا مشورہ دیا۔


مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کہتے ہیں کہ اسمبلی سیشن جب شروع ہوتا ہے تو اس میں صرف ممبران اسمبلی ہی نہیں ہوتے بلکہ ممبران اسمبلی کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کہتے ہیں کہ اسمبلی سیشن جب شروع ہوتا ہے تو اس میں صرف ممبران اسمبلی ہی نہیں ہوتے بلکہ ممبران اسمبلی کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔


مدھیہ پردیش اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر رامیشور شرما کہتے ہیں کہ اسمبلی میں اتنی بڑی تعداد میں ایک ساتھ اراکین اسمبلی کے آنے کے ساتھ اورکورونا کے قہر میں ان کے سیکورٹی کا انتظام نہ کے برابر تھا اس لئے سبھی کے مشورے سے اسمبلی کے مانسون سیشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کے سابق سی ایم کمل ناتھ کہتے ہیں کہ اسمبلی میں صوبہ کے نمائندے آتے ہیں اور سبھی طرح کی نمائندگی یہاں سے ہوتی ہے اس لئے اسمبلی سے ایسا قدم اٹھایا جانا چاہئے، جس سے ایک نظیر قائم ہو۔ سبھی کے مشور ے سے اسمبلی کے سیشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور یہی وقت کی ضرورت بھی ہے، جہاں تک اسمبلی اور بجٹ کا تعلق ہے اس کے قانونی پہلوؤں پر حکومت غورکر رہی ہے۔

20 جولائی سے شروع ہونے والی اسمبلی کے مانسون سیشن کو لےکر جہاں بی جے پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی ایک دوسرے کو گھیرنے کے لئے آستین چڑھائے پھر رہے تھے۔
20 جولائی سے شروع ہونے والی اسمبلی کے مانسون سیشن کو لےکر جہاں بی جے پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی ایک دوسرے کو گھیرنے کے لئے آستین چڑھائے پھر رہے تھے۔


مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کہتے ہیں کہ اسمبلی سیشن جب شروع ہوتا ہے تو اس میں صرف ممبران اسمبلی ہی نہیں ہوتے بلکہ ممبران اسمبلی کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسمبلی کے سینٹرل ہال میں اے سی ہے اور اسمبلی سیشن میں ایک ایک موضوع پر بیٹھ کر گھنٹوں ممبران اسمبلی کے بیچ بحث ہوتی ہے۔ ایسے میں جب کورونا کا قہر جاری ہے، اس میں دیرتک بیٹھ کر بات نہیں ہو سکتی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ممبران اسمبلی کے ساتھ ودھان سبھا کے کئی ملازمین بھی کورونا کی زد میں آچکے ہیں۔ ایسے میں اسمبلی کا سیشن منعقد ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ سیشن کے دوران، ممبران اسمبلی، اسمبلی سکریٹریٹ ملازمین، سیکوریٹی اہل کار اور صحافی بھی موجود ہوتے ہیں اور سبھی کو کورونا سے بچانا اہم ہے۔ اس لئے سبھی کے مشورے سے اسمبلی سیشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اسمبلی سیشن نہ ہونے اور صوبہ کی آئینی ضروریات کے لئے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر جاری ہے۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کی تعداد 21 ہزار کے ہندسہ کو پار کرچکی ہے۔ گزشتہ 35 دنوں میں صوبہ میں کورونا مریضوں کی تعداد میں 10 ہزار سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں اسمبلی سیشن کے ملتوی ہونے سے نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن بھی راحت محسوس کررہا ہے۔ حکومت کے لئے راحت اس بات کی ہے کہ اب کورونا کے قہر میں اس کے سبھی کام آرڈیننس کے ساتھ آسانی سے کئے جاسکیں گے اور اس میں روک ٹوک کرنے کا اپوزیشن کو کوئی موقع نہیں مل سکےگا۔ وہیں ااپوزیشن کانگریس جو اپنے اپنے ممبران اسمبلی کی بغاوت سے پریشان ہے اسے کورونا کے بہانے سے اپنی عزت بچانے کا سنہری موقع ہاتھ آگیا ہے۔ فروری سے کانگریس کے ممبران اسمبلی کا بی جے پی سے دامن گیر ہونے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ہنوز جاری ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 17, 2020 10:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading