உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    توہین رسالتﷺ کے تعلق سے ہو رہے ہنگامہ پر بہار کی مسلم تنظیموں کی بڑی اپیل

    امارت شرعیہ بہار کا کہنا ہے کہ پُر امن مظاہرہ دستوری حق ہے اور آج اسے طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ امارت کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق نبیﷺ پر نازیبا تبصرہ کسی قیمت پر برداشت نہیں ہے۔

    امارت شرعیہ بہار کا کہنا ہے کہ پُر امن مظاہرہ دستوری حق ہے اور آج اسے طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ امارت کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق نبیﷺ پر نازیبا تبصرہ کسی قیمت پر برداشت نہیں ہے۔

    امارت شرعیہ بہار کا کہنا ہے کہ پُر امن مظاہرہ دستوری حق ہے اور آج اسے طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ امارت کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق نبیﷺ پر نازیبا تبصرہ کسی قیمت پر برداشت نہیں ہے۔

    • Share this:
    پٹنہ: امارت شرعیہ بہار کا کہنا ہے کہ پُر امن مظاہرہ دستوری حق ہے اور آج اسے طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ امارت کے نائب ناظم مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کے مطابق نبیﷺ پر نازیبا تبصرہ کسی قیمت پر برداشت نہیں ہے۔ احتجاج کرنے والے لوگ اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ امارت شرعیہ کے مطابق تشدد کسی حال میں نہیں ہونا چاہئے، لیکن کون لوگ تشدد کر رہے ہیں اس کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔

    مفتی ثناءالہدیٰ قاسمی کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق ہے، جس کو دبایا جانا غیر مناسب ہے۔ امارت شرعیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ احتجاج کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ایف آئی آر اور عرضداشت دے کرلوگ اپنے غم و غصہ کا اظہار کریں۔ مفتی ثناءالہدیٰ قاسمی نے کہا کی سڑکوں پر مظاہرہ بڑوں کے مشورہ سے طے کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مظاہرہ کے دوران سماج دشمن عناصر گڑبڑی پیدا کرتے ہیں، جس کا خمیازہ احتجاج کرنے والے لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔



    آل انڈیا ملی کونسل کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازیبا تبصرہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمٰن قاسمی کے مطابق موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں تحفظ مذہبی شخصیات بل لائے، جس میں کسی بھی مذہبی شخصیت اور مقدس کتابوں پر تنقید کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے اور توہین کرنے والوں کو کم از کم دس سال کی سزا اور جرمانہ کی تجویز کو عمل میں لاتے ہوئے قانونی شکل دیا جائے۔

    ملی کونسل کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب کے مذہبی پیشوا کا احترام ضروری ہے۔ ملی کونسل کا کہنا ہے کہ ہر طرح کی توہین آمیز اور نازیبا تبصروں سے بچنا چاہئے۔ ملی کونسل کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ ایسے معاملہ سے ملک کی فضا خراب ہو رہی ہے۔ امن اور بھائی چارے کی کوشش پر دھکا لگتا ہے۔



    مذہبی تنظیموں کے ساتھ ہی جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں نے اس معاملہ پر سخت ناراضگی کا اظہارکیا ہے۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری میجر اقبال حیدر خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذہب کے مذہبی پیشوا اور مذہبی معاملات کے تعلق سے غیر ضروری بات کہنا درست نہیں ہے۔ ہر مذہب کا احترام ضروری ہے۔ مذہبی شخصیات کا احترام کرنا مہذب سماج کی نشانی ہے۔ میجر اقبال حیدر کے مطابق اس ملک کے سبھی مذہب کے لوگوں کا احترام کرنا ایک دوسرے پر لازم ہے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے۔ کسی بھی سماج کی ترقی امن وامان کے ماحول پر منحصر کرتا ہے۔ مذہبی پیشوا کے بارے میں نازیبا تبصرہ کرنے سے ظاہر ہے کہ ماحول خراب ہوتا ہے، جس سے نہ صرف بھائی چارے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ترقی کی رفتار بھی رک جاتی ہے۔ ہندو مسلم سبھی مذہب کے لوگوں کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: