உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب میں ملے انسانی ڈھانچوں پر بڑا انکشاف-1857 میں کیا گیا تھاان ہندوستانی فوجیوں کاقتل

    پنجاب کے شہر اجنالہ سے کنکال برآمد ہوئے۔ (فائل فوٹو)

    پنجاب کے شہر اجنالہ سے کنکال برآمد ہوئے۔ (فائل فوٹو)

    مطالعہ کے سربراہ محقق اور قدیم ڈی این اے کے ماہر نیرج رائے نے کہا کہ ٹیم کی جانب سے کی گئی سائنسی تحقیق سے تاریخ کو ثبوت پر مبنی انداز میں دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ محققین نے ڈی این اے کے تجزیہ کے لیے 50 نمونے اور آیسوٹوپ کے تجزیہ کے لیے 85 نمونے استعمال کیے۔

    • Share this:
      freedنئی دہلی: 2014 میں پنجاب میں کھدائی کرک نکالے گئے 165 سال پرانے انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے گنگا کے میدانی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی فوجیوں کے ہیں جنہیں 1857 کی ہندوستانی جدوجہد آزادی کی بغاوت کے دوران برطانوی فوج نے ہلاک کردیا تھا۔ یہ دعویٰ ایک تحقیق میں کیا گیا ہے۔ اجنالہ شہر کے ایک پرانے کنویں سے بڑی تعداد میں انسانی ڈھانچے ملے ہیں۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ یہ کنکال 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے ہیں۔

      مختلف تاریخی ذرائع کی بنیاد پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ 1857 کی ہندوستانی جنگ آزادی کی بغاوت کے دوران برطانوی فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہندوستانی فوجیوں کے ڈھانچے ہیں۔ تاہم سائنسی شواہد کی کمی کی وجہ سے ان فوجیوں کی شناخت اور ان کا تعلق کہاں سے تھا اس بارے میں بحث جاری ہے۔ 'فرنٹیئرز ان جینیٹکس' میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈھانچے گنگا کے میدانی علاقوں سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے ہیں، جن میں بنگال، اوڈیشہ، بہار اور اتر پردیش کے مشرقی حصوں کے فوجی شامل ہیں۔ اتر پردیش میں بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے شعبہ زولوجی کے پروفیسر دنیشور چوبے کے مطابق، مطالعہ کے نتائج نے ’ہندوستان کی پہلی آزادی کی جدوجہد کے گمنام ہیروز‘ کی تاریخ میں ایک اور اہم باب کا اضافہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Weather Update:شمالی ہند کے زیادہ تر ریاستیں شدید گرمی کی چپیٹ میںِ، جاری کیا گیا الرٹ

      چوبے، جنہوں نے ڈی این اے (ڈی آکسیرایبو نیوکلک ایسڈ) کے مطالعہ میں اہم کردار ادا کیا، نے پی ٹی آئی-بھاشا کو بتایا، 'اس مطالعے سے دو حقائق سامنے آئے ہیں... پہلا یہ کہ ہندوستانی فوجی 1857 کی بغاوت کے دوران مارے گئے تھے اور دوسرا یہ کہ وہ گنگاکے میدانی علاقے سے تعلق رکھتے تھے، پنجاب سے نہیں۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      بلقیس بانو کیس میں15سال سزا کاٹ چکا قیدی وقت سے پہلے رہائی کے لئے پہنچا سپریم کورٹ

      انھوں نے کہا، 'یہ بحث چل رہی ہے کہ وہ کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ان کا قتل پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے دوران کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ 1857 کی بغاوت سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے دو گروپ بھی ہیں جن میں سے ایک انہیں مقامی پنجابی سپاہی بتاتا ہے اور دوسرا گروپ انہیں میاں میر چھاؤنی لاہور میں تعینات 26ویں بیسک انفنٹری رجمنٹ کے سپاہی سمجھتا ہے۔

      مطالعہ کے سربراہ محقق اور قدیم ڈی این اے کے ماہر نیرج رائے نے کہا کہ ٹیم کی جانب سے کی گئی سائنسی تحقیق سے تاریخ کو ثبوت پر مبنی انداز میں دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ محققین نے ڈی این اے کے تجزیہ کے لیے 50 نمونے اور آیسوٹوپ کے تجزیہ کے لیے 85 نمونے استعمال کیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: