ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

سی اے اے- این آرسی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئی توڑ پھوڑ سے متعلق آر ٹی آئی سے ہوا بڑا انکشاف

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں ثبوت مٹانے کے مقصد سے سی سی ٹی وی اور ڈی وی آر تک توڑ دی گئی تھیں۔ یہ انکشاف جامعہ سے آرٹی آئی میں ملے ایک جواب سے ہوا ہے۔

  • Share this:
سی اے اے- این آرسی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئی توڑ پھوڑ سے متعلق آر ٹی آئی سے ہوا بڑا انکشاف
سی اے اے- این آرسی: جامعہ یونیورسٹی میں ہوئی توڑ پھوڑ کےبارے میں آرٹی آئی سے ہوا بڑا انکشاف۔ فائل فوٹو

ناصر حسین


نئی دہلی: 15 دسمبر کی رات جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی (Jamia millia islamia university) میں توڑ پھوڑ ہوئی تھی۔ سی اے اے - این آرسی (CAA-NRC) کے خلاف احتجاج کر رہے طلبا کا پیچھا کرتے ہوئے پولیس جامعہ کے اندر تک گھس آئی تھی۔ ذاکر حسین اور اولڈ لائبریری میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ ایس آرکے ہاسٹل، محب الحسن بلڈناسگ اور کلاس روم میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ فرنیچر اور گلاس کے دروازے کھڑی توڑ دیئے گئے تھے۔


یہاں تک کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد (Mosque) میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ ثبوت مٹانے کے مقصد سے سی سی ٹی وی (CCTV) اور ڈی وی آرتک توڑ دی گئی تھیں۔ اتنا ہی نہیں لائبریری میں لگی سبھی عظیم شخصیات کی تصاویر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ انکشاف جامعہ سے آرٹی آئی (RTI) میں ملے ایک جواب سے ہوا ہے۔ خود وائس چانسلر (Vice chancellor) نجمہ اختر بھی بتا چکی ہیں کہ یونیورسٹی کو اس توڑ پھوڑ سے 2.66 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے آرٹی آئی کا یہ جواب دیا گیا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے آرٹی آئی کا یہ جواب دیا گیا ہے۔


کس نے کی یہ توڑ پھوڑ، یہ بولی یونیورسٹی

15 دسمبر کی رات سی اے اے - این آرسی کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران جامعہ میں تشدد برپا ہوا تھا۔ اس تشدد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو 2.66 کروڑ روپئےکا نقصان ہوا ہے۔ یہ توڑ پھوڑ کس نے کی، طلبا نے یا پولیس نے۔ یونیورسٹی کی طرف سے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ آرٹی آئی میں بھی جب یہ پوچھا گیا کہ اس توڑ پھوڑ کے لئے کون ذمہ دار ہے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے اس بارے میں جواب دیا گیا ہے، ’جامعہ کے احتجاجی طلبا کے خلاف پولیس کارروائی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جائیداد کو نقصان پہنچایا گیا’۔

ایم ایچ آرڈی کو بھیجی گئی ہے نقصان کی رپورٹ

جانکاروں کی مانیں تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے یونیورسٹی کے اندر ہوئی توڑ پھوڑ، اس توڑ پھوڑ میں ہوئے نقصان کی رپورٹ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ترقیات کو بھیجی ہے۔ واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے احاطے کے اندر گھس کر ان کے اوپر لاٹھی چارج کیا، ٹیئر گیس بھی داغے گئے۔ لائبریری میں بیٹے طلبا وطالبات کو پیٹا گیا۔ وہیں پولیس کا بھی الزام تھا کہ طلبا احاطے کے اندر سے پولیس کے اوپر پتھر بازی کر رہے تھے۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 04, 2020 02:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading