چندریان 2 کو ملی بڑی کامیابی، سب سے مشکل مرحلہ کو پار کر چاند کے مدار میں پہنچا

اسرو نے کہا کہ چاند پر ہندستان کا دوسرا مشن چندریان۔2 منگل کو چاند کی مدار میں پہنچ گیا ہے۔ پہلے 22 دن زمین کے مدار میں چکر لگانے کے بعد چندریان 2نے 14جولائی کی صبح 2.21بجے اس کا چھ دن کاچاند کا سفر شروع کیا تھا اوراب چندریان 2منگل کو چاند کے مدار میں پہنچ گیا ہے۔

Aug 20, 2019 11:35 AM IST | Updated on: Aug 20, 2019 12:20 PM IST
چندریان 2 کو ملی بڑی کامیابی، سب سے مشکل مرحلہ کو پار کر چاند کے مدار میں پہنچا

چندریان 2 کو ملی بڑی کامیابی

ہندوستانی خلائی جانچ ایجنسی(اسرو) نے ایک اہم سنگ میل منگل کو اس وقت عبور کر لیا جب چندریان 2 خلائی گاڑی جس کو 22جولائی کو آندھراپردیش کے ضلع نیلور کے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چھوڑا گیا تھا،چاند کے مدار میں داخل ہوگیا تاکہ 7ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کی جا سکے۔

اسرو نے کہا کہ چاند پر ہندستان کا دوسرا مشن چندریان۔2 منگل کو چاند کے مدار میں پہنچ گیا ہے۔ پہلے 22 دن زمین کے مدار میں چکر لگانے کے بعد چندریان 2نے 14جولائی کی صبح 2.21بجے اس کا چھ دن کاچاند کا سفر شروع کیا تھا اوراب چندریان 2منگل کو چاند کے مدار میں پہنچ گیا ہے۔ زمین سے چاند تک کے سفر کے سیدھے راستے سے چاند کے مدار میں قائم کرنے کا مشکل عمل صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے کے درمیان انجام دیا گیا۔ اس کے لئے چاند کے پاس پہنچنے پر چندریان کے لکوئڈ انجن کو چالو کرکے چندریان کی سمت بدلی گئی۔ شروع میں اسے 118کلومیٹر ضرب 18,078کلومیٹر کی مدار میں قائم کیا گیا۔ 21اگست، 28اگست، 30اگست اور یکم ستمبر کو اس کی مدار میں چار مرتبہ تبدیلی کی جائے گی۔ یکم ستمبر کو آخری بدلاو کے بعد چندریان 114کلومیٹر ضرب 128کلومیٹر کی مڑی ہوئی مدار میں پہنچ جائے گا۔ چندریان کے تین حصے ہیں۔آربٹ، وکرم نام کا لینڈر اور پرگیان نام کا روور۔ وکرم اور اس کے ساتھ جڑا روبر 2ستمبر کو آربیٹر سے الگ ہوجائے گا اور 3ستمبر کو ان کی رفتار کم کی جائے گی۔

علامتی تصویر علامتی تصویر

Loading...

مشن کا سب سے اہم دن سات ستمبر کو ہوگا جب لینڈر چاند کی مدار سے اس کی سطح کی طرف اترنا شروع کرے گا اور آخرمیں چاند کے جنوبی قطب کے علاقہ میں اترے گا۔چاند پر اترنے کے بعد روور بھی وکرم سے الگ ہوجائے گا اور 500میٹر کے دائرے میں گھوم کر تصاویر او ر دیگر معلومات جمع کرے گا۔ یہ مشن اس معنی میں اہم ہے کہ چاند کے جنوبی قطب پر آج تک کوئی ملک نہیں پہنچ سکا ہے۔

سائنسدانوں کے لئے یہ شعبہ بالکل اچھوتا رہا ہے اور و ہاں سے ملنے والی معلومات چاند کے بارے میں انسانی سمجھ کو سرے سے بدل بھی سکتی ہے۔ اس مشن میں کافی نئی معلومات ملنے کی امید ہے۔

Loading...