ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزیر اعظم مودی نے پوری کی نتیش کی ڈیمانڈ! مرکزی کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں جے ڈی یو کے یہ تین چہرے

Modi Cabinet Expansion News: موصولہ جانکاری کے مطابق کابینی وزیر کیلئے آر سی پی سنگھ اور للن سنگھ تو وزیر مملکت کے طور پر رام ناتھ ٹھاکر ، چندیشور چندرونشی ، دلیشور کامت اور سنتوش کشواہا کے نام بحث میں شامل ہیں ۔

  • Share this:
وزیر اعظم مودی نے پوری کی نتیش کی ڈیمانڈ! مرکزی کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں جے ڈی یو کے یہ تین چہرے
Modi Cabinet Expansion: مودی کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں جے ڈی یو کے یہ تین چہرے

نئی دہلی : مرکزی کابینہ میں توسیع کی خبروں کے درمیان بڑی خبر یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اس مرتبہ وزیر اعظم مودی ،  وزیر اعلی نتیش کمار کی پرانی مانگ تسلیم کرسکتے ہیں ۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق اس مرتبہ مرکزی کابینہ میں مودی سرکار جے ڈی یو کو مناسب شراکت داری دے سکتی ہے اور نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے کوٹے سے مرکزی سرکار میں تین وزرا بنائے جاسکتے ہیں ۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق ان میں دو کابینہ اور ایک وزیر مملکت ہوسکتے ہیں ۔ جو خبریں سامنے آرہی ہیں اس کے مطابق جے ڈی یو کوٹے سے آر سی پی سنگھ اور للن سنگھ کابینہ وزیر ہوسکتے ہیں اور کسی ایک کو وزیر مملکت بنایا جاسکتا ہے ۔


موصولہ جانکاری کے مطابق وزیر مملکت کے طور پر جن ناموں کی بحث کی جارہی ہے ان میں رام ناتھ ٹھاکر ، چندیشور چندرونشی ، دلیشور کامت اور سنتوش کشواہا شامل ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ ان میں سے ہی کوئی ایک وزیر مملکت بنائے جاسکتے ہیں ۔ بتادیں کہ سال 2019 میں وزیر اعظم مودی کی دوسری مرتبہ حکومت بنانے پر بہار سے ایل جے پی مرکزی کابینہ میں شامل ہوئی تھی جبکہ جے ڈی یو نے بی جے پی سے ملی پیش کش ٹھکرا دی تھی ۔ مگر اس مرتبہ پارٹی کے قومی صدر آر سی پی سنگھ نے خود آگے آکر سرکار میں شامل ہونے کی بات کہی ہے ، جس سے لگتا ہے کہ جے ڈی یو کو تین عہدہ دینے کو بی جے پی لیڈروں نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے ۔


دراصل وزیر اعلی نتیش کمار شروع سے ہی سیٹوں کی حصہ داری کی بنیاد پر مناسب شراکت داری چاہتے تھے ، لیکن بی جے پی نے سبھی ساتھی پارٹیوں کو علامتی شراکت داری کا آفر دیا تھا ۔ اس کے بعد وزیر اعلی نتیش کمار نے ناراض ہوکر واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی پارٹی جے ڈی یو مرکزی کابینہ کا حصہ نہیں ہوگی ۔ حالانکہ تب یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ آر سی پی سنگھ یا للن سنگھ میں کسی ایک کو وزیر مملکت بنایا جاتا ، لیکن دونوں میں سے کوئی وزیر مملکت بننے کیلئے تیار نہیں ہوئے ، جس سے بات بگڑ گئی تھی ۔ حالانکہ اس مرتبہ بات بنتی نظر آرہی ہے ۔


جے ڈی یو کی جانب سے مرکزی کابینہ میں مناسب شراکت داری کے مطالبہ کے پیچھے بڑی وجہ یہ مانی جارہی ہے کہ بی جے پی نے حال ہی میں مغربی بنگال الیکشن میں مات کھائی ہے اور اگلے سال اترپردیش اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ ایسے میں پارٹی اپنے ساتھیوں کو لے کر کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی ہے ۔ ایسے بھی جے ڈی یو نے یوپی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے ۔ حالانکہ فی الحال وہ این ڈی اے خیمے سے ہی لڑنے کی بات کہہ رہی ہے ، لیکن مناسب شراکت داری نہیں ملی تو ہوسکتا ہے کہ جے ڈی یو یوپی میں بی جے پی کیلئے پریشانی کا سبب بن جائے ۔

دباو بنانے میں کامیاب ہوئی جے ڈی یو !

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ جے ڈی یو اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی ، اس لئے نتیش کمار لوک سبھا الیکشن کے ففٹی ففٹی فارمولہ پر ہی مودی کابینہ میں جگہ چاہتے ہیں ۔ 2019 لوک سبھا الیکشن میں دونوں پارٹیوں نے سترہ سترہ سیٹوں پر دعویداری پیش کی تھی ، جس میں بی جے پی نے 17 اور جے ڈی یو نے 16 پر جیت درج کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ ابھی بہار سے پانچ وزرا مودی کابینہ میں ہیں تو جے ڈی یو بھی پانچ وزرا چاہتی ہے ، لیکن ایسا ہوپانا ممکن نہیں نظر آتا ہے۔ بی جے پی کی توجہ ابھی انتخابی ریاستوں پر زیاہ ہے ، ایسے میں جے ڈی یو تین نام پر رضامند ہوتی نظر آرہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 06, 2021 05:41 PM IST