உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi LG Resign: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے عہدہ سے دیا استعفی، ذاتی وجوہات کا دیا حوالہ

    Delhi LG Resign: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے عہدہ سے دیا استعفی، ذاتی وجوہات کا دیا حوالہ ۔ تصویر : اے این آئی ٹویٹر ۔

    Delhi LG Resign: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے عہدہ سے دیا استعفی، ذاتی وجوہات کا دیا حوالہ ۔ تصویر : اے این آئی ٹویٹر ۔

    Delhi LG Resign: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفی راشٹرپتی بھون کو بھیج دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفی راشٹرپتی بھون کو بھیج دیا ہے۔ انل بیجل نے پانچ سال اور چار ماہ سے زیادہ کی مدت کار پوری کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ ساتھ ہی ان کے استعفیٰ کی وجہ سے سیاسی گلیاروں میں بحث کا بازار گرم ہو گیا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: وزرا کے گروپ نے آن لائن گیمنگ، کسینو اور ریس کورس پر 28 فیصد GST کی سفارش کی


      بتا دیں کہ انل بیجل ایک آئی اے ایس افسر بھی رہ چکے ہیں۔ انل بیجل کو 31 دسمبر 2016 کو دہلی کا لیفٹیننٹ گورنر بنایا گیا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر بیجل اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے درمیان ہمیشہ کسی نہ کسی معاملہ کو لے کر جھگڑا ہوتا رہا ہے۔


      کئی مرتبہ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے بھی اپنے دائرہ اختیار کو لے کر عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس سال بھی کورونا کی چوتھی لہر کے دوران دہلی حکومت اور ایل جی کے درمیان آڈ ایون فارمولہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا ۔ اس دوران ایل جی انل بیجل نے کیجریوال حکومت کی تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: کیا سویڈن اور فن لینڈ آسانی سے بن جائیں گے NATO کے ممبر؟ روسی صدر نے دی کھلی دھمکی


      دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کی میعاد مقرر نہیں ہوتی ہے۔ 31 دسمبر 2016 کو انہوں نے نجیب جنگ کی جگہ سنبھالی تھی ۔ لیفٹیننٹ گورنر بننے کے بعد عام آدمی پارٹی حکومت اور انل بیجل کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی تھی ۔ دہلی کی کیجریوال حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے درمیان کئی معاملات پر ٹکراو کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔

       

      ایک سال قبل بیجل نے دہلی حکومت کی 1000 بسوں کی خریداری کے عمل کی جانچ کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے بعد کافی ہنگامہ ہوا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے مسلسل اس معاملہ میں سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: