உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shaheen Bagh Drug Case : شاہین باغ ڈرگس کیس میں پکڑا گیا ایک اور ملزم

    Shaheen Bagh Drug Case : شاہین باغ ڈرگس کیس میں پکڑا گیا ایک اور ملزم

    Shaheen Bagh Drug Case : شاہین باغ ڈرگس کیس میں پکڑا گیا ایک اور ملزم

    Shaheen Bagh Drug Case : شاہین باغ ڈرگس کیس میں ایک اور ملزم پکڑا گیا ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے مطابق وہ مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں شامل تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی : شاہین باغ ڈرگس کیس میں ایک اور ملزم پکڑا گیا ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے مطابق وہ مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں شامل تھا۔ ہفتہ کو یہ مانا جا رہا تھا کہ اس معاملہ میں پانچویں اہم گرفتاری ہو سکتی ہے۔ اس معاملہ میں لگاتار پوچھ گچھ چل رہی تھی۔ بتا دیں کہ دہلی کے جامعہ نگر کے شاہین باغ علاقے میں چھاپہ مار کر این سی بی نے تقریباً 50 کلو ہیروئن اور 47 کلو مشتبہ منشیات برآمد کی تھی۔ ساتھ ہی 30 لاکھ روپے نقد اور نوٹ گننے کی مشین بھی برآمد کی گئی تھی ۔ اس دوران پولیس نے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : 65 گھنٹے، 25 میٹنگیں، 8 عالمی لیڈروں سے ملاقات... PM مودی کا سال کا پہلا غیر ملکی دورہ کل سے


      پولیس کے مطابق دواوں کو بیک پیک اور جوٹ کے بیگ میں چھپاکر رکھا گیا تھا ۔ ساتھ ہی کسی کو کوئی شک نہ ہو، اس کیلئے اس کو فلپ کارٹ اور دیگر ای کامرس کمپنیوں کے پیکٹوں میں پیک کیا گیا تھا ۔ افسران نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دہلی میں منشیات کی یہ سب سے بڑی برآمدگی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : عمران خان نے اپنی پارٹی کے حامیوں کو مظاہرہ کیلئے تیار رہنے کیلئے کہا، جانئے کب اور کیوں


      اس کیس میں جانکاری سامنے آئی تھی کہ شاہین باغ ڈرگس کنیکشن کا ماسٹر مائنڈ دبئی میں بیٹھا طالبان ہے۔ بتایا گیا کہ شاہد احمد عرف بڑا احمد ڈرگس کے اس پورے کھیل کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ وہ ایک افغان نژاد شہری کے ساتھ مل کر طالبان کی کئی تنظیموں میں بن رہی ہیروئن کی کھیپ سمندری راستے اور اٹاری بارڈر کے ذریعہ ہندوستان میں بھیج رہا ہے۔

      اس سے پہلے شاہین باغ سے گرفتار حیدر نے این سی بی کی پوچھ گچھ میں انکشاف کیا تھا کہ شاہین باغ جیسے کئی ٹھکانے دہلی این سی آر اور ملک کی کئی ریاستوں میں بنائے ہوئے تھے۔ یہ سب دبئی میں بیٹھے شاہد کے کہنے پر ہوتا تھا۔ شاہین باغ سے گرفتار حیدر براہ راست شاہد سے فون پر بات کرتا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: