உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lal Quila Mushaira : اس بار بھی نہیں ہوگا لال قلعہ کا تاریخی مشاعرہ ، سیاسی تکرار شروع

    Lal Quila Mushaira : اس بار بھی نہیں ہوگا لال قلعہ کا تاریخی مشاعرہ ، سیاسی تکرار شروع

    Lal Quila Mushaira : اس بار بھی نہیں ہوگا لال قلعہ کا تاریخی مشاعرہ ، سیاسی تکرار شروع

    Red Fort Mushaira : اس مرتبہ بھی یوم جمہوریہ پر منعقد ہونے والا تاریخی لال قلعے کا مشاعرہ (Lal Quila Mushaira) نہیں ہوگا۔ دہلی سرکار نے کورونا کا بہانہ بنا کر مشاعرہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے گزشتہ سال بھی لال قلعہ مشاعرہ نہیں ہو سکا تھا اور حکومت کے اس فیصلے کے بعد اردو داں حلقے میں مایوسی سامنے آگئی ہے تو سیاسی طور پر بھی اس پر تکرار شروع ہوگئی ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : اس مرتبہ بھی یوم جمہوریہ پر منعقد ہونے والا تاریخی لال قلعے کا مشاعرہ (Lal Quila Mushaira) نہیں ہوگا۔ دہلی سرکار نے کورونا کا بہانہ بنا کر مشاعرہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے گزشتہ سال بھی لال قلعہ مشاعرہ نہیں ہو سکا تھا اور حکومت کے اس فیصلے کے بعد اردو داں حلقے میں مایوسی سامنے آگئی ہے تو سیاسی طور پر بھی اس پر تکرار شروع ہوگئی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین دہلی کی طرف سے پریس ریلیز جاری کی گئی ہے ، جس میں اردو اکیڈمی اور دہلی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے ۔

    کل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اردو کے ساتھ عداوت پر مبنی ہے ۔ اردو کے ساتھ دہلی سرکار کی عداوت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ماسک لگا کر یوم جمہوریہ کی پریڈ ہوسکتی ہے ، بازار کھل سکتے ہیں، ریلیاں ہوسکتی ہیں تو صرف مشاعرہ پر ہی پابندی کیوں لگائی گئی ہے ۔ سرکار کے سارے کام اگر ورچوئل ہوسکتے ہیں ، تو مشاعرہ ورچول کیوں نہیں ہوسکتا ۔ لال قلعے کا تاریخی مشاعرہ جشن جمہوریہ کا حصہ ہے، اس کی منسوخی جشن جمہوریت کی توہین ہے۔ لیکن دہلی کی سرکار اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ رکھتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈمی میں 27 آسامیاں خالی ہیں، جنہیں آج تک نہیں بھرا گیا ۔ اکیڈمی سے وابستہ اساتذہ کو کئی ماہ سے تنخواہیں تک نہیں ملی ہیں۔ اردو اکیڈمی کے نام پر دس کروڑ کا بجٹ الاٹ کیا گیا ، مگر اسے ریلیز نہیں کیا گیا۔ اردو اساتذہ کی بھرتی کے نام پر کھیل کیا گیا اور چند آسامیاں ہی بھری گئیں۔ سرکار کے پاس اردو کے نام پر پھوٹی کوڑی نہیں ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ آج سے آٹھ مہینے پہلے بھی ہم نے اردو اکیڈمی کے ایشو پر اپنی بات سرکار تک پہنچائی تھی، لیکن سرکار نے اس پر کان نہیں دھرا۔ کیجریوال دہلی کے مسلمانوں کو اپنا بندھوا غلام سمجھتے ہیں۔ مگر انھیں آنے والے ایم سی ڈی الیکشن میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

    کلیم الحفیظ نے کہا کہ اردو اکیڈمی دہلی سرکار کا اپنا ادارہ ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ خود اس کے چیئرمین ہیں۔ اس کے باوجود اکیڈمی کی آسامیاں کئی سالوں سے خالی ہیں۔ اگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی تو ایک دن اردو اکیڈمی دہلی دفن ہوجائے گی۔ اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین جو کہ اردو کے الف سے بھی ناواقف ہیں، جب انھوں نے عہدہ سنبھالا تھا تو کہا تھا کہ میں بھلے ہی اردو نہیں جانتا ، لیکن میں اردو کے لیے کام کروں گا، وہ بھی اپنا وعدہ بھول گئے ہیں۔ انہیں اخلاقی طورپر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے اور کسی قابل فرد کا نام تجویز کرنا چاہئے۔

    کلیم الحفیظ نے کہا کہ کوئی بھی زبان سرکار کے تعاون کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ دہلی جو اردو کا مسکن ہے، جہاں کسی زمانے میں اردو اسکولوں کی بھر مار تھی ، آج ٹھکانے لگادی گئی ہے ۔ ،فتح پوری مسجد کا اسکول کئی سال سے بند ہے۔ صدر مجلس نے اردو کے نام پر قائم انجمنوں سے اپیل کی کہ وہ دہلی میں اردو کی صورت حال کو لے کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔

     

    وہیں اس پورے معاملے پر دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین حاجی تاج محمد نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب پوری دہلی میں سرکاری دفاتر کورونا وبا کی وجہ سے بند ہیں تو اس وقت مشاعرے کے انعقاد کا کیا سوال ہے ۔ حاجی تاج محمد نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی کا دفتر بھی اس بیماری کی وجہ سے بند ہے ۔ اس مرتبہ بھی مشاعرہ نہیں ہو رہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: