உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عالمی منظرنامے میں ہندوستان کے کردار کا مرید ہے CICA ، ایشیا میں استحکام ہے ہدف

    عالمی منظرنامے میں ہندوستان کے کردار کا مرید ہے CICA ، ایشیا میں استحکام ہے ہدف ۔ فائل فوٹو ۔

    عالمی منظرنامے میں ہندوستان کے کردار کا مرید ہے CICA ، ایشیا میں استحکام ہے ہدف ۔ فائل فوٹو ۔

    رائیسین ڈائیلاگ میں حصہ لینے کیلئے ہندوستان کے دورے پر آئے 27 ممالک کی تنظیم سیکا یعنی کانفرنس آن انٹریکشن اینڈ کنفڈینس بلڈنگ میزرس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیرات سیریبے نے کہا کہ ابھرتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ہندوستان کا اہم کردار ہے ۔ ہندوستان کی پالیسیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ روس اور یوکرین کے تنازع کا حل بھی اس پالیسی سے ہوسکتا ہے جو ہندوستان کی اپنائی ہوئی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ابھرتے ہوئے عالمی منظر نامے میں ہندوستان کا اہم کردار ہے ۔ ہندوستان کی پالیسیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ روس اور یوکرین کے تنازع کا حل بھی اس پالیسی سے ہوسکتا ہے جو ہندوستان کی اپنائی ہوئی ہے ۔ اس پالیسی کی سب سے بڑی خاصیت دوسرے ممالک کی سرحدوں کا احترام کرنا اور کسی کی بھی خودمختاری کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنا ہے ۔ رائیسین ڈائیلاگ میں حصہ لینے کیلئے ہندوستان کے دورے پر آئے 27 ممالک کی تنظیم سیکا یعنی کانفرنس آن انٹریکشن اینڈ کنفڈینس بلڈنگ میزرس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیرات سیریبے نے ایک گفتگو کے دوران یہ باتیں کہیں ۔

       

      عمران ملک کو انگلینڈ بھیجنا چاہتے ہیں سنیل گواسکر، IPL 2022 میں جموں ایکسپریس مچا رہا ہے دھمال


      سفیر کیرات سریبے نے کہا کہ سیکا اتفاق رائے اور ہم آہنگی میں یقین رکھتی ہے ، اس لئے 27 ممالک کی اس تنظیم کے اندر سبھی فیصلے اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں ۔ اگر ایک بھی ملک کا کسی معاملہ پر عدم اتفاق ہوتا ہے تو اس فیصلے سے بچا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور اسرائیل جیسے حریف ممالک بھی اس فورم پر پورے جمہوری طریقہ سے اپنے خیالات رکھ سکتے ہیں ۔ یہ دونوں ہی ملک اس فورم کے رکن ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ میں ایک ساتھ ہیں ، مگر وہاں اراکین ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ایسے میں وہاں ان کی آواز اتنے بے باک طریقہ سے سامنے نہیں آسکے گی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : میچ میں ہوا تنازع، کوچ کپتان سب امپائر سے بھڑے، اسٹیڈیم میں مچا 'چیٹر چیٹر' کا شور، دیکھئے ویڈیو


      کیرات سریبے نے ہندوستان کی پالیسی کو لے کر کثیر جہتی یا پھر ملٹی آلائنمنٹ لفظ کا استعمال کیا ۔ انہوں نے ایک بحث کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی پالیسی نان الائنمنٹ سے ملٹی الائنمنٹ کی جانب بڑھی ہے ۔ یہ گفتگو اور جمہوریت کیلئے بہتر ہے ۔ انہوں نے روس یوکرین کے حوالہ سے ملٹی لیٹرل اپروچ کی بات کا اعادہ کیا ۔

      انہوں نے کہا کہ ایک طرفہ یا دوطرفہ کی جگہ ملٹی لیٹرل طریقہ سے ہی سنجیدہ مسائل کا حل نکل سکتا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دنیا کے ایک حصے کے واقعات کے چشمے سے دوسرے حصے کو نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: