உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Big News: اب فوج میں تین سے پانچ سال کیلئے بھرتی ہوسکتے ہیں نوجوان، جلد ہوگا اعلان : ذرائع

    Big News: اب فوج میں تین سے پانچ سال کیلئے بھرتی ہوسکتے ہیں نوجوان، جلد ہوگا اعلان : ذرائع

    Big News: اب فوج میں تین سے پانچ سال کیلئے بھرتی ہوسکتے ہیں نوجوان، جلد ہوگا اعلان : ذرائع

    3 to 5 year joining for youths in indian army: ہندوستانی فوج میں نوجوانوں کیلئے ٹور آف ڈیوٹی کا جلد اعلان ہوسکتا ہے ۔ اس کے تحت ایک محدود وقت کیلئے نوجوان فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں ۔ ذرائع کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق فی الحال تین سے پانچ سال کیلئے فوج میں شارٹ ٹرم خدمات دینے کیلئے تجویز لائی جاسکتی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستانی فوج میں نوجوانوں کیلئے ٹور آف ڈیوٹی کا جلد اعلان ہوسکتا ہے ۔ اس کے تحت ایک محدود وقت کیلئے نوجوان فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں ۔ ذرائع کے حوالے سے ملی جانکاری کے مطابق فی الحال تین سے پانچ سال کیلئے فوج میں شارٹ ٹرم خدمات دینے کیلئے تجویز لائی جاسکتی ہے ۔ اس میعاد کے بعد افسر یا فوجی چاہیں تو اپنی خدمات جاری رکھ سکتے ہیں ۔ بتادیں کہ پہلے افسروں کو ہی ٹور آف ڈیوٹی میں شامل کرنے کی تجویز تھی ، لیکن اب افسروں کی جگہ فوجیوں کو بھی شامل کیا جائے گا ۔

      ذرائع کے مطابق 3 سے 5 سال کی سروس کے لیے ضروری عمل جلد شروع کر دیا جائے گا۔ اسے جلد ہی اعلیٰ قیادت سے گرین سگنل مل جائے گا۔ فوج میں شارٹ ٹرم سروس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ اس وقت تینوں سروسز میں 1,25,364 آسامیاں خالی ہیں۔ یہ منصوبہ 2020 میں آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے لے کر آئے تھے۔ حال ہی میں وزارت دفاع میں اس بارے میں بریفنگ ہوئی ہے۔

      اس بندوبست کے تحت 3 یا 5 سال کی سروس مکمل کرنے کے بعد فوج نوجوانوں کو دیگر خدمات میں بھرتی کرنے میں مدد کرے گی۔ انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ فوج ایسے نوجوانوں کے لیے منصوبہ بنا رہی ہے ، تاکہ کارپوریٹ دنیا میں اچھی مانگ ہو۔ سمجھا جاتا ہے کہ تربیت کے دوران فوج انہیں ایسی ٹریننگ دے گی تاکہ کارپوریٹ دنیا میں ان کی مانگ برقرار رہے۔ ان فوجیوں کو ٹور آف ڈیوٹی کے تحت لے جایا جائے گا۔

      اس اسکیم پر عمل درآمد سے فوج کو معاشی محاذ پر بھاری بچت ہوگی۔ کچھ طلبہ کو 20 سال تک فوج میں رکھا جاتا ہے۔ ایسے طلبہ کو فوج سے ہر سہولت میسر ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: