உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسکول کھلنے کے بعد چھوٹے بچوں کے بیمار پڑنے کے معاملات 15 فیصد تک بڑھے، Covid-19 نہیں، یہ ہے وجہ

    اسکول کھلنے کے بعد چھوٹے بچوں کے بیمار پڑنے کے معاملات 15 فیصد تک بڑھے، Covid-19 نہیں، یہ ہے وجہ ۔ تصویر سوشل میڈیا سے ۔

    اسکول کھلنے کے بعد چھوٹے بچوں کے بیمار پڑنے کے معاملات 15 فیصد تک بڑھے، Covid-19 نہیں، یہ ہے وجہ ۔ تصویر سوشل میڈیا سے ۔

    School kids falling sick: کورونا وبا کو لے کر لگائی گئی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کا جوش پھر سے دکھائی دینے لگا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک ٹرینڈ نظر آرہا ہے کہ چھوٹے بچے بار بار بیمار ہو رہے ہیں۔ یہ کسی خاص جگہ یا علاقے میں نہیں ہو رہا، ملک بھر میں اچانک بچوں کے بیمار ہونے کے معاملات بڑھ گئے ہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کورونا وبا کو لے کر لگائی گئی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کا جوش پھر سے دکھائی دینے لگا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک ٹرینڈ نظر آرہا ہے کہ چھوٹے بچے بار بار بیمار ہو رہے ہیں۔ یہ کسی خاص جگہ یا علاقے میں نہیں ہو رہا، ملک بھر میں اچانک بچوں کے بیمار ہونے کے معاملات بڑھ گئے ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اس کے لیے براہ راست ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ بچوں کی قوت مدافعت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ کورونا کے دوران لاک ڈاؤن اور پابندیاں لگائی گئیں، اس دوران بچے زیادہ تر گھروں میں ہی رہے تھے اور اب وہ باہر نکل رہے ہیں تو ایسے میں بچوں کے جسم کو باہر کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگ رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ بار بار بیمار ہو رہے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے:  تھمتا نظر نہیں آرہا جے این یو تنازع، مظاہرین طلبہ سے ملاقات کریں گی وائس چانسلر


      کئی ماہرین اطفال نے گفتگو میں بتایا کہ بچوں میں کھانسی، الرجی، وائرل انفیکشن، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں، سانس کے مسائل اور ہاضمے کے مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ پریشانیاں چھوٹے بچوں میں اور ان لوگوں میں زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہیں ، جن کو پہلے کوئی پریشانی ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا نے بچوں کی صحت پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ کورونا کے خوف سے لوگوں نے تقریباً دو سالوں تک اپنے بچوں کو زیادہ باہر نہیں نکلنے دیا ، جس کی وجہ سے ان کی قوت مدافعت متاثر ہوئی ہے۔ چھوٹے بچے اسکولوں، پارکوں اور دیگر کھلی جگہوں پر کھیلتے ہوئے یا سماجی میل جول کے دوران دھول، وائرس، بیکٹیریا اور باریک ذرات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ جسم کے اندر اینٹی باڈیز بناتے ہیں اور نقصان دہ وائرس اور بیکٹیریا سے حفاظت میں مدد کرتے ہیں ۔

      فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ اطفال کے پرنسپل ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا چگھ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اور گھر میں رہنے کے دوران بچوں کے جسم کو قوت مدافعت بڑھانے کے اس قدرتی عمل سے گزرنے کا موقع نہیں ملا ۔ اب جب کہ اسکول کھلے ہیں اور بچے باہر ہیں، ان کے جسم پر اچانک ان چیزوں کا حملہ ہوتا ہے اور وہ بار بار بیمار پڑتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے :رکی پونٹنگ نے بتایا : کیوں کلدیپ یادو کو دہلی نے خریدا، کولکاتہ پر بھی کیا طنز


      وہیں ادے پور کے پارس جے کے اسپتال کے چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر آشیش تھیٹے کہتے ہیں کہ آج کل 10 میں سے 8 بچے ایسی ہی شکایات کے ساتھ ان کی او پی ڈی میں آ رہے ہیں، جب کہ پچھلے دو سالوں کے دوران یہ کیس بہت کم تھے۔ نارائن ہیلتھ احمد آباد کی ماہر اطفال ڈاکٹر اروشی رانا بھی ایسے معاملات میں 15 فیصد تک اضافے کی بات کرتی ہیں ۔

      وہ کہتی ہیں کہ بیمار پڑنے کی شکایات بڑے بچوں کی بہ نسبت چھوٹے بچوں میں زیادہ دیکھی جارہی ہیں کیونکہ بڑوں میں قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ اسکولوں کے کھلنے کے علاوہ گرمی میں اضافہ اور لوگوں کا اچانک باہر نکلنا بھی اس کی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: