உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دھرم سنسد : SC نے اتراکھنڈ سرکار کو لگائی پھٹکار، کہا: اشتعال انگیز تقریر پر لگائیں روک

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ نے دھرم سنسد کے انعقاد پر اتراکھنڈ حکومت کی سرزنش کی ہے۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری سے حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے دھرم سنسد کے انعقاد پر اتراکھنڈ حکومت کی سرزنش کی ہے۔ اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری سے حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اشتعال انگیز تقاریر نہ کی جائیں۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔

      بتادیں کہ اگلی دھرم سنسد بدھ کو اتراکھنڈ کے روڑکی میں ہونے والی ہے۔ دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔ اس سے پہلے کئی ریاستوں میں ایسا ہو چکا ہے۔ ہماچل پردیش کے اونا، یوپی کے ہریدوار اور دہلی میں دھرم سنسد میں اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزامات ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پٹن میں جیش محمد کے 2 ہائی برڈ دہشت گرد ہتھیار کے ساتھ گرفتار، کیس درج، تفتیش جاری


      جسٹس اے ایم کھانولکر کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ ایسے حالات میں کیا کرنے کی ضرورت ہے ، اس بارے میں عدالتی فیصلے پہلے ہی موجود ہیں اور ریاست کو صرف اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے کہا کہ آپ کو صرف پہلے سے موجود رہنما خطوط پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ اس پر عمل کررہے ہیں یا نہیں ، یہی آپ کو ہمیں جواب دینا ہے۔ بنچ میں جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس سی ٹی روی کمار بھی شامل ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  کورونا کی رفتار پر بریک! گزشتہ 24 گھنٹے میں 2483 نئے کیسیز، 30 اموات


      ادھر ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ اس نے اس کو روکنے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ اور ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آنے پر اس کی جانچ کی تھی ۔ جسٹس کھانولکر نے وکیل سے کہا کہ نہیں، جانچ ہی نہیں ، آپ کو ان سرگرمیوں کو روکنا ہوگا۔ بنچ نے ریمارکس دئے کہ اگر کچھ ہوا تو چیف سیکرٹری کو حاضر ہونے کیلئے کہا جائے گا ۔

      عدالت نے ہماچل پردیش میں منعقد دھرم سنسد کے خلاف ایک درخواست پر بھی بحث کی اور ریاست کے وکیل سے کہا کہ وہ حلف نامہ میں بتائیں کہ اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: