உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Covid-19: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کہا: کسی کو بھی ویکسین لینے کیلئے پابند نہیں کیا جاسکتا

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    Covid-19 Vaccination: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی کورونا ویکسین پالیسی کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی بھی شخص کو ویکسین لینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی کورونا ویکسین پالیسی کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسی بھی شخص کو ویکسین لینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ باتیں ویکسین کے ڈیٹا اور ویکسین کو لازمی قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہیں۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکومت سے کلینیکل ٹرائلز کا ڈیٹا بھی جاری کرنے کیلئے کہا ہے۔

      سپریم کورٹ نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ کچھ ریاستی حکومتیں ٹیکہ نہیں لگوانے والوں کو عوامی مقامات پر داخلہ نہیں دے رہی ہیں ۔ عدالت نے اسے غیر منصفانہ قرار دیا۔ ساتھ ہی ریاستوں کو اس طرح کی پابندیوں کو ہٹانے کا مشورہ بھی دیا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت پالیسی بنا سکتی ہے اور عوام کی بھلائی کے لیے کچھ شرائط رکھ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ویکسین کی موجودہ پالیسی کو غیر منصفانہ اور واضح طور پر من مانی نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : اب 18 گھنٹے ملے گی بجلی، رات 12 بجے کے بعد نہیں ہوگا Power Cut، دیکھئے نیا شیڈول


      جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور بی آر گووئی کی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت جسمانی خود مختاری اور سالمیت کو تحفظ حاصل ہے، عدالت عظمیٰ نے کہا کہ موجودہ کورونا ویکسین پالیسی کو واضح طور پر من مانی اور غیر مناسب نہیں کہا جاسکتا ۔ بنچ نے کہا کہ تعداد کم ہونے تک ہم مشورہ دیتے ہیں کہ متعلقہ احکامات پر عمل کیا جائے اور ٹیکہ نہیں لگوانے والے افراد کے عوامی مقامات پر جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جانی چاہئے ۔ بنچ نے کہا کہ اگر کوئی پابندی پہلے سے موجود ہے تو اس کو ہٹا دینا چاہئے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : شادی کے بعد بدلے CSK سلامی بلے باز کے تیور، آتے ہی بنائے تابڑ توڑ رن، خراب کاردگی کے سبب ہوگئے تھے ٹیم سے باہر


      سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کورونا ویکسین لگوانے سے کس طرح کے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں ، اس کا ڈیٹا بھی عام کیا جائے ۔ ساتھ ہی کلینیکل ٹرائلز کا ڈیٹا بھی حکومت کو جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بچوں کو ٹیکہ لگانے کا فیصلہ ہوش میں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونا چاہئے ۔

      بنچ نے یہ بھی کہا کہ ویکسین کے ٹرائل کے اعداد و شمار کو الگ کرنے کے حوالے سے، افراد کی رازداری کے تحت ، کئے گئے تمام ٹیسٹوں اور اس کے بعد ہونے والے تمام ٹرائلز کا ڈیٹا بغیر کسی تاخیر کے عوام کیلئے دستیاب کرایا جانا چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: