ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش حکومت کوسپریم کورٹ سے ملی راحت:پانچ اضلاع میں لاک ڈاؤن سے متعلق الہٰ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ پرلگائی روک

سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ کو فریق بنائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کو مدعا علیہان کی فہرست سے ہٹا دیا جائے۔ وکیل تشار مہتانے کہا کہ ریاستی حکومت نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں اور کورونا انفیکشن کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھانا پڑے ہیں۔ ہائی کورٹ کے 5 شہروں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ اس سے انتظامیہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • Share this:
اترپردیش حکومت کوسپریم کورٹ سے ملی راحت:پانچ اضلاع میں لاک ڈاؤن سے متعلق الہٰ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ پرلگائی روک
سپریم کورٹ

اترپردیش حکومت نے کوویڈ 19 کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے پیش نظر الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ سمیت پانچ اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔جس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگادی ۔سالیسیٹر جنرل تشار مہتانے اترپردیش حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ پیروی کی ۔اس دوران ، سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ کو فریق بنائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کو مدعا علیہان کی فہرست سے ہٹا دیا جائے۔ وکیل تشار مہتانے کہا کہ ریاستی حکومت نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں اور کورونا انفیکشن کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھانا پڑے ہیں۔ ہائی کورٹ کے 5 شہروں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ اس سے انتظامیہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


سالیسٹر جنرل تشار مہتا کا مزید کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن مسلط کرنے کا حکم درست نہیں ہے ، جس میں ریاست کی طرف سے کی گئی شرائط کے جائزہ کو نظرانداز کیا گیا تھا ، جس کے بعد سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک دی۔ اسی کے ساتھ ہی ، سپریم کورٹ نے وکیل پی ایس نرسمہا کو عدالتی دوست مقررکیاہے۔



اس سے پہلے سالیسٹر جنرل تشار مہتا ، نے فوری طور پر فہرست سازی کے لئے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں بینچ کو اس معاملے کا حوالہ دیا تھا۔ مہتا نے کہا تھا ، 'عدالتی حکم نے ایک ہفتے کے لئے ورچوئل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے آج بینچ سے اس معاملے میں سماعت کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ یہ معاملہ ریاست کے پانچ بڑے شہروں سے متعلق ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے کیا تبصرہ کیا؟

الہ آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ روز ریاستی حکومت کو ریاست کے پانچ سب سے متاثرہ شہروں - پریاگراج ، لکھنؤ ، وارانسی ، کانپور اور گورکھپور میں لاک ڈاؤن لگا دینے کی ہدایت کی تھی۔ جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس اجیت کمار پر مشتمل بنچ نے ریاست میں کورونا وباء سے متعلق دائر پی آئی ایل کی سماعت کے دوران یہ حکم صادر کیاہے۔تاہم عدالت نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنے حکم کے ذریعہ ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن مسلط نہیں کررہی ہے۔ بنچ نے کہا تھا ، "ہمارا نظریہ یہ ہے کہ موجودہ منظر نامے کو دیکھتے ہوئے ، اگر لوگوں کو ایک ہفتہ کے لئے گھروں سے باہر جانے سے روکا گیا تو ، کورونا انفیکشن کا ایک سلسلہ ٹوٹ سکتا ہے اور اس کی وجہ سے فرنٹ لائن کے ہیلتھ ورکر اس اس سے کچھ راحت بھی ملے گی۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 20, 2021 02:40 PM IST