ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات : سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کو سیاسی ایشو بنانے کی اپوزیشن کی تیاری ، خواتین کا خاموش احتجاج حکمراں پارٹی کیلئے بڑی مصیبت

بہار میں 17 فیصدی اقلیتی آبادی کے ووٹوں کو اپنی جھولی میں کرنے کی سیاست جاری ہے۔ برسر اقتدار پارٹی خاص طور سے جے ڈی یو کیلئے خواتین کے احتجاج نے ایک نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات : سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کو سیاسی ایشو بنانے کی اپوزیشن کی تیاری ، خواتین کا خاموش احتجاج حکمراں پارٹی کیلئے بڑی مصیبت
سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کو سیاسی ایشو بنانے کی اپوزیشن کی تیاری

دہلی کے بعد اب بہار میں اسمبلی انتخابات کی باری ہے ۔ یہ سال بہار کا انتخابی سال ہے اور نتیجہ کے طور پر تمام سیاسی پارٹیوں کی سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کا معاملہ بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھی ایک بڑا ایشو بنےگا ۔ آر جے ڈی جہاں اسی بہانے اپنی سیاسی زمین کو مضبوط بنانے کی کوشش میں لگی ہے تو وہیں برسر اقتدار پارٹی کے لئے خواتین کا خاموش احتجاج ایک مصیبت بنتا جارہا ہے۔


سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے بہانے بہار کی اپوزیشن پارٹیوں کو ایک بڑا ایشو مل گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اس مدعا کو ہر قیمت پر کیش کرانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ جیتن رام مانجھی کی ہندوستانی عوام مورچہ ، اوپیندر کشواہا کی آر ایل ایس پی اور پپو یادو کی جن ادھیکار پارٹی کے ساتھ سی پی آئی اس ایشو پر پہلے ہی لوگوں کو ایک جٹ کرنے کی کوشش میں لگی ہے تو وہیں اب ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی اسمبلی انتخاب کا بڑا ایشو بنے گا۔ آرجےڈی نے نتیش حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو غریبوں کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ آر جے ڈی لیڈرعارف حسین کے مطابق یہ قانون مسلمانوں سے زیادہ دلت ، غریب ، کسان اور مزدور کے خلاف ہے ، لیکن نتیش کمار کو غریبوں کی مشکل نظر نہیں آرہی ہے۔ خواتین سے ہمدردی کی بات کرنے والے نتیش کمار خواتین کے خاموش احتجاج کو بھی نظر انداز کررہے ہیں ۔ عارف حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت کو انتخابات میں اس ایشو پر لوگوں کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا ۔


بہار میں 17  فیصدی اقلیتی آبادی کے ووٹوں کو اپنی جھولی میں کرنے کی سیاست جاری ہے۔ برسر اقتدار پارٹی خاص طور سے جے ڈی یو کیلئے خواتین کے احتجاج نے ایک نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔ جے ڈی یو نے مسلمانوں کے درمیان نتیش کمار کی شبیہ کو صاف کرنے کیلئے مسلم لیڈروں کو لگایا ہے ۔ جےڈی یو کے تمام مسلم لیڈران نتیش کمار کی جانب سے اقلیتوں کے تعلق سے کئے گئے فلاحی کاموں کو بتا کر مسلمانوں کو اطمینان دلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کافی کام کیا ہے ، لیکن اپوزیشن لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ جےڈی یو لیڈر محمد ارشاد اللہ کا کہنا ہے کہ قبرستان گھیرابندی ، وقف ترقیاتی اسکیم ، مدارس کے اساتذہ اور مدرسوں کی ترقی ، طلاق شدہ خواتین کو مالی مدد کے ساتھ ہی اسکالرشپ اور مزید کئی طرح کے منصوبوں سے حکومت نے اقلیتوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے ، ایسے میں اسمبلی انتخاب میں مسلمان نتیش کمار کی ہی حمایت کریں گے ۔


جے ڈی یو کیلئے خواتین کے احتجاج نے ایک نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔ تصویر : محفوظ عالم ۔
جے ڈی یو کیلئے خواتین کے احتجاج نے ایک نئی مصیبت کھڑی کردی ہے۔ تصویر : محفوظ عالم ۔


واضح رہے کہ اس سال کے آخر میں بہار میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے ۔ برسر اقتدار پارٹی کے ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیوں نے اپنی مہیم تیز کردی ہے ۔ آر جے ڈی اپنے پرانے ووٹروں کو پارٹی سے قریب لانے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے تو وہیں جےڈی یو کے مسلم لیڈروں نے حکومت کے فلاحی کاموں کو بنیاد بنا کر اقلیتوں تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
First published: Feb 17, 2020 07:53 PM IST