ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات 2020: ایم آئی ایم نے جاری کی دوسرے مرحلے کی فہرست، 18 اسمبلی حلقوں میں انتخاب لڑنےکا اعلان

مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اخترالایمان اور بہار کے انچارج ماجد حسین کا کہنا ہے کہ اس بارکے انتخاب میں ایم آئی ایم اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات 2020: ایم آئی ایم نے جاری کی دوسرے مرحلے کی فہرست، 18 اسمبلی حلقوں میں انتخاب لڑنےکا اعلان
بہار اسمبلی انتخابات 2020: ایم آئی ایم نے جاری کی دوسرے مرحلے کی فہرست

پٹنہ: بہار کی سیاست میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایم آئی ایم نے پٹنہ میں آج دوسرے مرحلے کی فہرست جاری کردی ہے، جس میں مزید  18حلقوں میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 32 حلقوں کی فہرست جاری کی جا چکی ہے۔ ایسے میں اب 50  سیٹوں پر قسمت آزمائی کرنے کی ایم آئی ایم کی تیاری ہے۔ تیسرے مرحلے کی فہرست جاری کیا جانا ابھی باقی ہے۔ آج جو فہرست جاری کیا گیا ہے، اس میں کوچا دھامن، کشن گنج، بہادر گنج، ٹھاکر گنج، کسبا، ارریہ، نرپت گنج، چھاتا پور، پران پور، جالے، دربھنگہ، سوگولی، بھاگلپور، گیا، پورنیہ، دھمداہا، پیرو اور منی ہاری اسمبلی حلقہ شامل ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں، جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دلتوں کی آبادی بھی ہار جیت کا فیصلہ کرتی ہے۔


مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اخترالایمان اور بہار کے انچارج ماجد حسین کا کہنا ہے کہ اس بارکے انتخاب میں ایم آئی ایم اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اخترالایمان کے مطابق ان کی پارٹی مسلمانوں اور دلتوں کو لےکر چل رہی ہے اور سماج کے آخری پائیدان پر کھڑی آبادی کے حقوق کی حصولیابی کے لئے میدان میں اترے گی۔ واضح رہے کہ بہار میں مسلمانوں کی 17 فیصد آبادی ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر مسلم ووٹوں پر رہتی ہے۔ دوسری جانب عظیم اتحاد مسلمانوں کو اپنا روایتی ووٹر مان رہا ہے۔ وہیں این ڈی اے میں شامل جےڈی یو اور ایل جے پی بھی مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اقلیتوں کے فلاحی کاموں کا دعویٰ کرکے مسلمانوں کو جے ڈی یو سے قریب کرنےکی کوشش میں مصروف ہیں۔


بہار کی سیاست میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ فائل فوٹو
بہار کی سیاست میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ فائل فوٹو


وہیں ایم آئی ایم کا کہنا ہےکہ اگر عظیم اتحاد ہم سے رابطہ کرے تو پارٹی اتحاد کرنے پر غورکرسکتی ہے۔ اگر ایم آئی ایم سے بات نہیں کی گئی تو ایم آئی ایم اپنے دم پر انتخابی میدان کو فتح کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایم آئی ایم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ ریاست میں ایک متبادل کے طور پر ابھرے گی اور انتخابات کا نتیجہ لوگوں کو یہ بتائےگا کی ایم آئی ایم کی بہار میں کیا طاقت ہے۔ دراصل صوبہ کے 243 اسمبلی حلقوں میں تقریباً 60 اسمبلی حلقہ ایسا ہے، جہاں مسلمانوں کی آبادی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں کی یاد تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخابات کے موقع پر پریشان کرنے لگتی ہے۔ جانکاروں کے مطابق اس بار کے انتخابات میں مسلم ووٹوں میں بکھراؤ کو کوئی روک نہیں سکتا ہے جبکہ ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ مسلم ووٹوں کا تقسیم نہیں ہوگا۔ بہار کی سیاست میں اپنا جھنڈا گاڑنے کی کوشش میں مصروٖف ایم آئی ایم اس بار اپنی تیاری پر کافی خوش ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 01, 2020 07:57 PM IST