ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار: مانجھی کے آفر کے بعد کانگریس میں ٹوٹ کا خدشہ، پارٹی نے کل بلائی اراکین اسمبلی کی میٹنگ

اطلاعات کے مطابق ٹوٹ کے خدشہ کے درمیان بلائی گئی اس میٹنگ میں چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل (Chhattisgarh CM Bhupesh Baghel) اور کانگریس لیڈر اروند پانڈے (Arwind Pandey) بھی شامل ہوں گے اور سبھی اراکین اسمبلی سے ون ٹو ون بات کی جائے گی۔

  • Share this:
بہار: مانجھی کے آفر کے بعد کانگریس میں ٹوٹ کا خدشہ، پارٹی نے کل بلائی اراکین اسمبلی کی میٹنگ
بہار کانگریس میں ٹوٹ کا خدشہ، پارٹی نے جمعہ کو بلائی اراکین اسمبلی کی میٹنگ

پٹنہ: بہار اسمبلی انتخابات 2020 (Bihar Assembly Election 2020) کے نتیجے آچکے ہیں۔ اب سیاسی جماعتیں حکومت تشکیل کرنے کی قواعد میں مصروف ہوگئی ہیں۔ ایک طرف قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ دیوالی کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار (CM Nitish Kumar) وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔ وہیں، انتخابی نتائج آنے کے بعد جمعرات کو تیجسوی یادو کو عظیم اتحاد کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد پہلی بار تیجسوی یادو میڈیا سے بھی روبرو ہوئے اور این ڈی اے پر بہار میں خیانت کرنے اور جوڑ توڑ سے حکومت بنانے کا الزام لگایا۔ اس درمیان کانگریس (Congress) نے پارٹی میں ٹوٹ کے خطرے کو بھانپتے ہوئے جمعہ کو ایک بار پھر سے اراکین اسمبلی کی میٹنگ طلب کی ہے۔


موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹوٹ کے خدشہ کے درمیان بلائی گئی اس میٹنگ میں چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل (Chhattisgarh CM Bhupesh Baghel) اور کانگریس لیڈر اروند پانڈے (Arwind Pandey) بھی شامل ہوں گے اور سبھی اراکین اسمبلی سے ون ٹو ون (ایک ایک کر کے) بات کی جائے گی۔ حالانکہ ٹوٹ کے کسی بھی خبر کو بہار انچارج ویریندر سنگھ راٹھور نے مسترد کردیا ہے۔


جیتن رام مانجھی نے کہا کہ کانگریس اراکین اسمبلی کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ آجانا چاہئے۔ نتیش کمار سب کے لیڈر ہیں اور ان کی حکمت عملی کانگریس سے بہت الگ نہیں ہے۔
جیتن رام مانجھی نے کہا کہ کانگریس اراکین اسمبلی کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ آجانا چاہئے۔ نتیش کمار سب کے لیڈر ہیں اور ان کی حکمت عملی کانگریس سے بہت الگ نہیں ہے۔


واضح رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج (Bihar Assembly election result) کے بعد ریاست میں نئی حکومت سازی کی قواعد کے درمیان جہاں تیجسوی یادو (Tejaswi yadav) کو عظیم اتحاد (Mahagathbandhan) کا قانون ساز پارٹی لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ وہیں کانگریس میں اندرونی انتشارکی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر طارق انور (Tariq anwar) نے کانگریس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ اکھلیش سنگھ (Akhilesh Singh) نے کہا ہے کہ شکست کی ذمہ داری سب کو لینی ہوگی۔ اس درمیان کانگریس میں پائے جانے والے انتشار کے درمیان سابق وزیر اعلیٰ اور ہندوستانی عوام مورچہ کے صدر جیتن رام مانجھی (Jitan Ram Manjhi) نے کانگریس اراکین اسمبلی کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار (CM Nitish Kumar) کے ساتھ آنے کا آفر دے کر سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔

جیتن رام مانجھی نے کہا کہ کانگریس اراکین اسمبلی کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ آجانا چاہئے۔ نتیش کمار سب کے لیڈر ہیں اور ان کی حکمت عملی کانگریس سے بہت الگ نہیں ہے۔ سبھی کانگریس اراکین اسمبلی ساتھ آجائیں، یہ ان کے لئے بھی بہتر ہے۔ جیتن رام مانجھی نے کہا کہ کانگریس اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا نظریہ بھی تقریباً ایک ہی ہے۔ واضح رہے کہ جیتن رام مانجھی نے یہ آفر تب دیا ہے جب یہ خبر آئی کہ بہار اسمبلی انتخابات نتائج میں اکثریت سے محض 12 سیٹیں دور رہنے پر عظیم اتحاد نے ابھی حکومت بنانے کی امید نہیں چھوڑی ہے۔ وہ اپنے معاون جیتن رام مانجھی کی ہم اور مکیش سہنی کی وی آئی پی (HAM and VIP) پر ڈورے ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 12, 2020 05:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading