ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار حکومت کے انسانی زنجیر میں مسلمانوں کی شرکت مگر مسلم تنظیموں میں اختلاف ، کچھ نے کی حمایت تو کچھ نے بنائی دوری

جل جیون ہریالی منصوبہ کے تحت انسانی زنجیر کے پروگرام کا مسلم تنظیموں نے کھل کر بائی کاٹ تو نہیں کیا ، لیکن عملی طور پر امارت شرعیہ بہار نے حکومت کے انسانی زنجیر کے پروگرام سے دوری بنائے رکھی ۔

  • Share this:
بہار حکومت کے انسانی زنجیر میں مسلمانوں کی شرکت مگر مسلم تنظیموں میں اختلاف ، کچھ نے کی حمایت تو کچھ نے بنائی دوری
بہار حکومت کی انسانی زنجیر میں مسلمانوں کی شرکت مگر مسلم تنظیموں میں اختلاف، یہ ہے اصل وجہ ۔ تصویر : محفوظ عالم ۔

ماحولیات کے تحفظ کے نام پر بہار میں انسانی زنجیر بنائی گئی ۔ پروگرام کے اختتام پر حکومت نے دعویٰ کیا کہ 18 ہزار کلومیٹر طویل انسانی زنجیر بنائی گئی ۔ واضح رہے کہ 18 ہزار کلومیٹر کی انسانی زنجیر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نظر آئی ۔ پٹنہ سمیت مختلف ضلعوں میں اقلیتی آبادی ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر کا حصہ بنے۔


جل جیون ہریالی منصوبہ کے تحت انسانی زنجیر کے پروگرام کا مسلم تنظیموں نے کھل کر بائی کاٹ تو نہیں کیا ، لیکن عملی طور پر امارت شرعیہ بہار نے حکومت کے انسانی زنجیر کے پروگرام سے دوری بنائے رکھی ۔ امارت کے ضلعوں کے نمائندگان نے بھی انسانی زنجیر پروگرام میں شرکت نہیں کی ۔ وہیں ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیرمین مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے کہا کی ہم نے انسانی زنجیر کے پروگرام میں شرکت نہیں کی ۔ مگر کیوں نہیں کی ، اس سوال پر انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔


پٹنہ سمیت مختلف ضلعوں میں اقلیتی آبادی ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر کا حصہ بنے۔ تصویر : محفوظ عالم ۔


ادھر ادارہ شرعیہ بہار ، مجلس علما و خطباء امامیہ ، جمیعت علماء بہار ، مسلم مجلس مشاورت نے پروگرام کی حمایت کی ۔ شیعہ مذہبی لیڈر و مجلس علما و خطباء امامیہ کے جنرل سکریٹری مولانا ڈاکٹر امانت حسین نے کہا کہ جس مقصد کے تحت انسانی زنجیر بنائی گئی تھی ، اس مقصد کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ حکومت نے ماحولیات کی حفاظت ، جہیز ، شراب اور بچوں کی شادی کے خلاف انسانی زنجیر بنائی ہے ، اس لئے ان کی تنظیم نے حکومت کے اس پروگرام کی حمایت کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : انسانی زنجیر کے دوران دربھنگہ میں اردو ٹیچر محمد داود کی موت ، ضلع انتظامیہ کی اہل خانہ کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی

مسلم تنظیموں نے یہ ضرور کہا کہ سی اے اے پر برسر اقتدار پارٹی کی حمایت سے ناراضگی اپنی جگہ پر ہے اور انسانی زنجیر کی حمایت اپنی جگہ ۔ امارت شرعیہ کی جانب سے انسانی زنجیر کی کھل کر حمایت نہیں کرنے پر اقلیتی تنظیموں نے کوئی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ۔
First published: Jan 19, 2020 05:58 PM IST