உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bihar New Government:بہار میں پھر مہاگٹھ بندھن کی حکومت،8ویں مرتبہCMعہدے کا حلف لیں گے نتیش کمار، بی جے پی دے گی دھرنا

    Youtube Video

    Bihar New Government of Mahagathbandhan: تیجسوی یادو نے کہا، "بی جے پی کا کوئی اتحادی نہیں ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ بی جے پی ان پارٹیوں کو تباہ کر دیتی ہے جن کے ساتھ وہ اتحاد کرتی ہے۔ ہم نے پنجاب اور مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا وہ دیکھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ کسی سے چھپا نہیں تھا۔

    • Share this:
      Bihar New Government of Mahagathbandhan:منگل کو دن بھر جاری سیاسی ہلچل کے درمیان یہ فیصلہ کیا گیا کہ بہار میں ایک بار پھر مہاگٹھ بندھن حکومت بنے گی اور بدھ کو نتیش کمار 8ویں بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ حلف برداری آج بدھ کو دوپہر 2 بجے ہوگی۔ ذرائع کے مطابق تیجسوی یادو ڈپٹی سی ایم بنیں گے۔ منگل کو، نتیش کمار کے ساتھ تیجسوی یادو اور مہاگٹھ بندھن کے رہنماؤں نے بہار میں نئی ​​حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ گورنر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 164 ایم ایل ایز کی حمایت انہیں حاصل ہے۔

      صبح 11 بجے سے شروع ہوئی تھی میٹنگ
      صبح تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ بہار کے سیاسی گلیاروں میں کیا ہونے والا ہے۔ پتہ صرف اتنا تھا کہ صبح 11 بجے آر جے ڈی اور جے ڈی یو کی خصوصی میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس سے دو دن پہلے یہ اندازہ ضرور لگایا جا رہا تھا کہ بہار میں سیاسی ہلچل ہونے والی ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی یو نے منگل کی صبح 11 بجے میٹنگ کی۔ دوپہر میں یہ واضح ہوگیا کہ نتیش کمار این ڈی اے چھوڑ چکے ہیں۔

      نتیش کمار نے دیا استعفیٰ
      میٹنگ کے بعد نتیش کمار نے استعفیٰ دے دیا۔ راج بھون کی جانب سے 12.30 بجے سے 1 بجے کے درمیان کا وقت مانگا گیا لیکن نہیں ملا۔ اس کے بعد تقریباً چار بجے کا وقت ملا۔ اس درمیان نتیش کمار نے میڈیا میں یہ کہا کہ این ڈی اے کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Bihar Politics : سرکار بنانے کیلئے نتیش ۔ تیجسوی کو ابھی نہیں ملی راج بھون سے دعوت

      یہ بھی پڑھیں:
      Bihar Politics: وزیر اعلی نتیش کمار کے ساتھ آئے جیتن رام مانجھی، ہم نے بلا شرط دی حمایت

      تیجسوی یادو نے کیا کہا؟
      تیجسوی یادو نے کہا، "بی جے پی کا کوئی اتحادی نہیں ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ بی جے پی ان پارٹیوں کو تباہ کر دیتی ہے جن کے ساتھ وہ اتحاد کرتی ہے۔ ہم نے پنجاب اور مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا وہ دیکھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ کسی سے چھپا نہیں تھا۔ لوگ متبادل چاہتے ہیں، بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں ملا۔ نتیش کمار نے اپنا کام کیا، انہوں نے یہ مطالبہ وزیر اعظم کے سامنے رکھا لیکن ان کا مطالبہ نہیں مانا گیا۔ تمام پارٹیوں اور ممبران نے نتیش کمار کو اپنا لیڈر تسلیم کر لیا ہے۔"
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: