ہوم » نیوز » وطن نامہ

نتیش سرکار کا فرمان ، پرتشدد احتجاج کیا تو نہیں ملے گی سرکاری نوکری

بہار کے ڈی جی پی ایس کے سنگھل کی ہدایت سے نکلے اس حکم نامہ کے بعد کھلبلی مچ گئی ہے ۔ دراصل مانا جارہا ہے کہ پولیس صدر دفتر اس طرح کا حکم نکال کر لوگوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کرنے میں مصروف ہے ۔

  • Share this:
نتیش سرکار کا فرمان ، پرتشدد احتجاج کیا تو نہیں ملے گی سرکاری نوکری
بہار کے ڈی جی پی ایس کے سنگھل کی ہدایت سے نکلے اس حکم نامہ کے بعد کھلبلی مچ گئی ہے ۔ دراصل مانا جارہا ہے کہ پولیس صدر دفتر اس طرح کا حکم نکال کر لوگوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کرنے میں مصروف ہے ۔

بہار میں سرکار کے خلاف احتجاج اب آپ کو بھاری پڑسکتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر کسی عوامی نمائندہ ، سرکاری افسر پر نازبیا تبصرہ کرنے پر قانونی کارروائی کی ہدایت دینے والی بہار پولیس اب میں ایک اور قدم آگے بڑھ گئی ہے ۔ بہار پولیس صدر دفتر نے کیرکٹر سرٹیفیکیٹ کو لے کر ایک نیا حکم جاری کیا ہے ۔ اس حکم کے تحت اگر کوئی شخص سڑک جام اور احتجاج کے دوران کسی مجرمانہ فعل میں شامل ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف پولیس چارج شیٹ داخل کردیتی ہے ، تب ایسا شخص کسی بھی طرح کے سرکاری ٹھیکے میں شامل ہونے یا پھر سرکاری نوکری کرنے کے قابل نہیں مانا جائے گا ۔


بہار کے ڈی جی پی ایس کے سنگھل کی ہدایت سے نکلے اس حکم نامہ کے بعد کھلبلی مچ گئی ہے ۔ دراصل مانا جارہا ہے کہ پولیس صدر دفتر اس طرح کا حکم نکال کر لوگوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کرنے میں مصروف ہے ۔ راجدھانی پٹنہ میں مختلف ایشوز پر احتجاج کرنے والے لوگ سڑک پر اترتے ہیں تو پھر انہیں نوکریاں اور سرکاری ٹھیکے سے محروم کردیا جانا کتنا مناسب ہوگا ؟


دراصل گزشتہ دونوں چیف سکریٹری کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی تھی ، جس میں ڈی جی پی بھی بطور رکن شامل ہوئے تھے ۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سرکاری ٹھیکے میں کیرکٹر سرٹیفکیٹ ضرور دینا ہوگا ۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ پٹنہ کے انڈیگو اسٹیشن ہیڈ روپیش قتل کیس کے بعد سرکار نے اس طرح کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایک مہینے کے اندر ریاستی پولیس صدر دفتر کا یہ دوسرا حکم اپوزیشن پارٹیوں کیلئے ایشو بن گیا ہے ۔


آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اس معاملہ پر سوشل میڈیا کے ذریعہ سرکار پر حملہ بولا ہے ۔ تیجسوی یادو کا الزام ہے کہ سرکار بہار کے نوجوانوں سے خوفزدہ ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس حکم کے ذریعہ ڈرانا چاہتی ہے ، لیکن حکمراں پارٹی کے لیڈران اس کو لا اینڈ آرڈر کے مفاد میں اٹھایا گیا قدم قرار دے رہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 03, 2021 09:37 AM IST