ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے رواں مالی سال کا ایک روپیہ بھی نہیں کیا خرچ ، قرض کے انتظار میں بے روزگار لگاتے ہے دفاتر کے چکر

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ریاست کے ضرورت مند اور بے روزگار اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے لئے قرض دیتا ہے۔ پانچ لاکھ تک قرض دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔

  • Share this:
بہار اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے رواں مالی سال کا ایک روپیہ بھی نہیں کیا خرچ ، قرض کے انتظار میں بے روزگار لگاتے ہے دفاتر کے چکر
بہار اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے رواں مالی سال کا ایک روپیہ بھی نہیں کیا خرچ ، قرض کے انتظار میں بے روزگار لگاتے ہے دفاتر کے چکر

اقلیتوں کو خود کفیل بنانے کا نعرہ دینے والا بہار کا اقلیتی مالیاتی کارپوریشن رواں مالی سال کا ایک روپے بھی خرچ نہیں کرسکا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے ۔ لگاتار تین سالوں سے مالیاتی کارپوریشن اپنے بجٹ کو وقت پر خرچ کرنے سے قاصررہا ہے ۔ جبکہ قرض کے انتظار میں بے روزگار اقلیتی نوجوان اپنا دن کاٹتے ہیں ۔ اس معاملے پر صوبہ میں سیاست بھی تیز ہوگئی ہے ۔ واضح رہے کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ریاست کے ضرورت مند اور بے روزگار اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے لئے قرض دیتا ہے۔ پانچ لاکھ تک قرض دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس مدّ میں حکومت ہر سال سو کروڑ روپے مختص کرتی ہے ۔ رواں مالی سال میں کارپوریشن کو 85 کروڑ روپے مل چکا ہے ۔ مزید 15 کروڑ روپے ملنے والا ہے ، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ کارپوریشن رواں مالی سال کا ایک روپے بھی تقسیم نہیں کیا ہے۔


حالانکہ اس معاملے پر کارپوریشن کی اپنی دلیل ہے ۔ کارپوریشن کے مطابق پیسے کافی تاخیر سے ملے ہیں ۔ ساتھ ہی ضلعوں میں ضلع اقلیتی افسران قرض کے لئے درخواست لیتے ہیں اور انتخاب کر کے پٹنہ بھیجتے ہیں ۔ ضلع اقلیتی افسران کی جانب سے اس سلسلے میں کوتاہی برتی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے وقت پر پیسہ خرچ کرنا ہمیشہ ایک دشوار کن مرحلہ ثابت ہوتا رہا ہے۔ کارپوریشن کے ایم ڈی محمد معیز الدین کے مطابق رواں مالی سال کے پیسہ کوبھی تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔


اب سوال ہے کہ نتیش کمار کے اس منصوبہ کو کارپوریشن اور اضلاع کے اقلیتی افسران کتنا سنجیدگی سے لیتے ہیں ، یہ اس کی ایک مثال ہے ۔ رواں مالی سال میں کارپوریشن کو 85 کروڑ روپے مل چکے ہیں ، لیکن خرچ کے نام پر ایک روپے بھی زمین پر نہیں اترا ہے ۔ نتیش حکومت کے کام کا طریقہ دیکھئے کہ مالی سال اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ، لیکن رواں مالی سال کی اسکیم سے ایک بھی شخص کو فائدہ نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ جبکہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ایم ڈی کہتے ہیں کی وہ رقم کو تقسیم کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ جبکہ بے روزگار اقلیتی نوجوان قرض کے انتظار میں اپنا دن کاٹ رہے ہیں ۔ قرض کے لئے کارپوریشن کے دفتر کے ساتھ ہی ضلع اقلیتی افسران کے دفتر کا چکر لگا کر ان کی چپلیں گھس گئی ہیں ، لیکن اسی کام کے لئے بحال ضلع کے اقلیتی افسران کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔


ضلع اقلیتی افسران اقلیتوں کو قرض دینے کے معاملہ میں اتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ لون کے لئے دی گئی درخواستوں کو پلٹ کر دیکھنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کرتے ہیں ۔ نتیجہ کے طور پر ضلعوں میں درخوستیں پڑی رہتی ہیں ، لیکن اس کا انتخاب نہیں ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پر کارپوریشن کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ ہی ضلع اقلیتی افسران محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر کی بات کا کوئی نوٹس لیتے ہیں ۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا قرض منصوبہ ، جس پر ان کی کافی تعریف ہوئی تھی ، اب زمین پر نہیں اترنے سے ان کی تنقید کا سبب بن رہی ہے۔

ہندوستانی عوام مورچہ کے ترجمان دانش رضوان کے مطابق نتیش کمار اقلیتوں کو صرف خواب دکھاتے ہیں ، اسے زمین پر اتارنے میں حکومت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ جے ڈی یو لیڈر میجر اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ حکومت ان تمام مسائل پرغورکررہی ہے ۔ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ قرض اسکیم کی تقسیم میں رکاوٹ کیوں پیدا ہورہی ہے اور وقت پر پیسے خرچ کرنے میں کیا دشواری ہے ۔ میجر اقبال کے مطابق ان تمام امور پر حکومت فوری کاروائی کرےگی ۔ جانکاروں نے نتیش کمار سے سوال کیا ہے کہ ضلع اقلیتی افسران پر نکیل کسنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو کم از کم ضلع اقلیتی افسران کو ان کا کام یاد دلانا چاہئے اور کارپوریشن کو سخت ہدایت دی جانی چاہئے کہ مالی سال میں مختص رقم کو کارپوریشن خرچ کرے ۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ صرف اسکیم بنا دینے سے ہی غریب طبقہ کو فائدہ پہنچتا ، تو اقلیتوں کا مسئلہ حل ہوگیا ہوتا ، لیکن حکومت اسکیم تو بناتی ہے ، اسے زمین پر اتارنے میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتی ہے ۔ ادھر بے لگام اضلاع کے اقلیتی افسران اپنے کام میں مست رہتے ہیں ، انہیں اقلیتی اسکیموں کو زمین پر اتارنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کو خودکفیل بنانے کے نام پر چل رہی حکومت کی اسکیم ٹھنڈے بستہ میں ہے۔
First published: Feb 11, 2020 11:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading