بلقیس بانو عصمت دری کیس: 11مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار

بمبئی ہائی کورٹ نے 2002 میں گجرات فسادات کے دوران پیش آنے والے بلقیس بانو عصمت دری کے معاملے میں آج اہم فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے ذریعہ 11 لوگوں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔

May 04, 2017 12:09 PM IST | Updated on: May 04, 2017 01:16 PM IST
بلقیس بانو عصمت دری کیس: 11مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار

بامبے ہائی کورٹ

ممبئی۔  بمبئی ہائی کورٹ نے 2002 میں گجرات فسادات کے دوران پیش آنے والے بلقیس بانو عصمت دری کے معاملے میں آج اہم فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے ذریعہ 11 لوگوں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ اس معاملے میں ملزمان کی طرف سے ٹرائل کورٹ کے سال 2008 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس وجیا كاپسے اور جسٹس مردولا بھاٹكر کی بنچ نے معاملے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد آج یہ فیصلہ سنایا۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے عصمت دری کے تین اہم ملزمان کے لئے سزائے موت تجویز کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ گودھرا سانحہ کے بعد فروری 202 میں ہونے والے گجرات فسادات کے دوران حاملہ خاتون بلقیس بانو کی اجتماعی آبروریزی کی گئي تھی اور اس کے 14 رشتہ داروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے ہائی کورٹ میں دلیل دیتے ہوئے مسٹر ہیتن وینیگاؤنکر نے کہا کہ یہ 'قتل عام' کا واقعہ ہے۔ فسادات کے دوران نومولود بچے سمیت ایک خاندان کے 14 افراد اس وقت قتل کر دیئے گئے تھے، جب وہ جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔ اس دوران لوگوں کی آبرو ریزی بھی کی گئی۔ یہ انوکھا وحشیانہ معاملہ ہے اور اس میں سب سے سخت سزا ملنی چاہئے۔ سی بی آئی نے 11 ملزمان میں سے تین اہم ملزمان کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا، جسے ہائی کورٹ نے رد کردیا۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے ٹرائل کورٹ کی طرف سے بری کئی گئے 5 پولس اہلکاروں کے خلاف پھر سے تفتیش کرنے کا حکم دیا۔

اس دوران مدعا علیہان کے سینئر وکیل ہریش پانڈیا نے اس واقعہ کی واحد چشم دید گواہ بلقیس بانو کے بیانات، گجرات پولس کی طرف سے دائر ایف آئی آر اور لاشوں کی تصاویر اور جائے واردات سے جمع کئے گئے دیگر شواہد پر شک و شبہ ظاہر کیا۔ عدالت نے بلقیس بانو کی طرف سے دائر پٹیشن کو مسترد کر دیا جس میں سماعت کے دوران اس کی عدالت میں موجود رہنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ واضح رہے کہ احمد آباد سے 250 کلومیٹر دور دیوگڑھ -باریا گاؤں میں 3 مارچ 2002کو 19 سالہ بلقیس بانو کی اجتماعی آبروریزی کی گئی تھی، اس وقت وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ فسادات کے دوران گاؤں پر حملے میں اس کے خاندان کے 14 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا جس میں تین دن کے بچے بھی شامل تھے۔

Loading...

Loading...