ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

یوم پیدائش پر خاص : اپنی البیلی شاعری سے عوام کے دلوں پر ڈاکٹر راحت اندوری کی حکومت رہے گی قائم

عام طور پر لوگ ڈاکٹر راحت اندور کو صرف ایک شاعر کی حیثت سے جانتے ہیں مگر راحت اندوری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک مصور کی حیثیت سے شروع کیا تھا۔

  • Share this:
یوم پیدائش پر خاص : اپنی البیلی شاعری سے عوام کے دلوں پر ڈاکٹر راحت اندوری کی حکومت رہے گی قائم
یوم پیدائش پر خاص : اپنی البیلی شاعری سے عوام کے دلوں پر ڈاکٹر راحت اندوری کی حکومت رہے گی قائم

بیسویں اور اکیسویں صدی میں قریب پانچ دہائیوں تک اپنی منفرد شاعری سے عوام کے دلوں پر حکومت کرنے والے ڈاکٹر راحت اندوری کی آج یکم جنوری کویوم ولادت ہے۔ ڈاکٹر راحت اندوری اگر حیات ہوتے تو آج اپنے مداحوں کے بیچ اپنا اکہترواں جنم دن منا رہے ہوتے۔مگر کورونا کی وبائی بیماری نے اس فنکار کو ہم سے اتنی دور کردیا جہاں تک انسان کی رسائی کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔


ڈاکٹر راحت اندوری کی ولادت یکم جنوری انیس سو پچاس کو مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اندور میں ہوئی اور اندور میں ہی انہوں نے اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔ ڈاکٹر راحت اندوری کا انتقال گیارہ اگست دوہزار بیس کو اندور میں کورونا کی وبائی بیماری کے سبب ہوا۔ آج ڈاکٹر راحت اندوری بھلے ہی ہمارے بیچ نہیں ہیں مگر ان کی شاعری اور تعلیم کے میدان کئے گئے ان کے کارہائے نمایاں ہمیں ان کی یاد دلاتےرہیں گے۔


ڈاکٹر راحت اندور کی تعلیم وتر بیت اندور میں ہوئی ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اور پھر گریجوایشن کی تعلیم اندور سے مکمل کی ۔ ایم اے کی تعلیم انہوں نے اودھ سے حاصل کی اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے ممتاز ادیب پروفیسر آفاق احمد کی نگرانی میں اردو مشاعروں کی تہدیبی روایت پر تحقیقی مقالہ لکھ کر حاصل کی۔


عام طور پر لوگ ڈاکٹر راحت اندور کو صرف ایک شاعر کی حیثت سے جانتے ہیں مگر راحت اندوری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک مصور کی حیثیت سے شروع کیا تھا۔ بعد از آں وہ اندور اسلامیہ کریمیہ ڈگری کالج میں تدریس کے پیشہ  سے وابستہ ہوئے اور نئی نسلوں کی ذہن سازی کا فریضہ انجام دیا ۔

ڈاکٹر راحت اندوری کی شرکت اردو اور ہندی مشاعروں کی کامیابی کی ضامن تھی ۔ انہوں نے ہندستان کے علاوہ ایشیائی اور یورپین ممالک میں اردو کی بہترین نمائندگی کی تھی ۔ راحت اندوری کے شعری مجموعوں میں دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، ناراض کے نام قابل ذکر ہیں ۔

راحت اندوری نے جس عہد میں شاعری کے میدان میں قدم رکھا تھا اردو شاعری کے افق پر نمائندہ شاعروں کی کہکشاں  موجود تھی ۔ انہوں نے سب کے بیچ سے اپنی الگ راہ نکالی اور اپنے منفرد انداز سے اردو شاعری اور مشاعروں میں مقام بنایا۔ راحت اندوری نے اٹھارہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا تھا۔ پھر اردو کی زلف گرہ گیر کے ایسا اسیر ہوئے کہ عمر بھر اس سے باہر نہیں نکل سکے ۔ راحت اندوری نے اختر شیرانی کو دل میں بیٹھایا، ساحر کو اپنایا، مجاز سے پیار کیا، مخدوم پر اعتبار کیا ، فیص سے فیںصیاب ہوئے اور کوچہ سخن میں کامیاب ہوئے ۔ راحت اندوری کے فن وو شاعری پر بہت سے خصوصی نمبر بھی نکالے گئے ہیں ۔

ڈاکٹر راحت اندوری نے نوے سے زیادہ فلموں میں کامیاب نغمے لکھے تھے ۔ ان کی اہم فلموں میں جانم، سر، ٹکر، رام، غنڈہ ، بے قابو، ناراض، خود دار، ہیرو ہندستانی ، پریم اگین، اگر تم نہ آئے، دیوانہ تیرے نام کا، مشن کشمیر اور مہرہ جیسی اہم فلمیں شامل ہیں ۔

ڈاکٹر راحت اندوری نے اپنی فلموں میں وہی لکھا جو انہوں نے محسوس کیا ۔ ان کی شاعری سماج کے لئے آئینہ ہے ۔ راحت اندوری نے اپنا آخری مشاعرہ نیوز18 اردو کے لئے آن لائن پڑھا۔ اس مشاعرہ میں انہوں نے جو شعر پڑھا تھا اس میں انہوں نے اپنی زندگی کے سفر کے اختتام کا اعلان بھی کردیا تھا مگر زمانہ اسے سمجھنے سے قاصر رہا۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا۔

عمر بھر کی نیند پوری ہوچکی ہے

تب کہیں جاکر مرا بستر کھلا

راحت اندوری نے کبھی وقت اور حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ وہ اپنی شاعری سے نفرت پر کاری ضرب لگاتے ہیں اور محبت کے نغمے باٹنتے رہے اور یہ کہتے ہیں کچھ ماہ پہلے ہم سے رخصت ہوئے کہ۔

جنازے پر مرے لکھ دینا یارو

محبت کرنے والا جا رہا ہے
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 01, 2021 02:38 PM IST