ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: ضمنی اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی اور کانگریس نے بچھائی بساط

بی جے پی نے روٹھوں کو منانے اور ڈیمج کنٹرول کے لئے کیلاش وجے ورگیہ کو بڑی ذمہ داری دی ہے تو کانگریس نے الیکشن مینجمنٹ اور سوشل میڈیا کے لئے پرشانت کشور کی مدد لی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: ضمنی اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی اور کانگریس نے بچھائی بساط
مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی اور کانگریس نے بچھائی بساط

بھوپال: مدھیہ پردیش اسمبلی کی 24 سیٹوں کے لئے بی جے پی اورکانگریس دونوں نے سیاسی بساط بچھانا شروع کردیا ہے۔ بی جے پی نے روٹھوں کو منانے اور ڈیمج کنٹرول کے لئے کیلاش وجے ورگیہ کو بڑی ذمہ داری دی ہے تو کانگریس نے الیکشن مینجمنٹ اور سوشل میڈیا کے لئے پرشانت کشور کی مدد لی ہے۔ مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 230 سیٹیں ہیں۔ ان 230 سیٹوں میں سے اس وقت 24 سیٹیں خالی ہیں، جن پر اسمبلی ضمنی انتخابات ہونا ہے۔ 24 سیٹوں میں دو سیٹیں وہ ہیں، جن پر ایک بی جے پی اور ایک کانگریس رکن اسمبلی کاانتقال ہو چکا ہے، باقی 22 سیٹیں وہ جو سندھیا حامی کانگریس ممبران اسمبلی کے استعفیٰ دینے کے بعد خالی ہوئی ہیں۔


موجودہ وقت میں مدھیہ پردیش اسمبلی کی 230 سیٹوں میں سے بی جے پی کے پاس 107،کانگریس کے پاس 92، چار آزاد ممبران اسمبلی، دو بی ایس پی اور ایک سماجوادی پارٹی کا رکن اسمبلی ہے۔ مدھیہ پردیش میں  1956 سے اب تک اقتدار بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ہی رہتا رہا ہے۔ اب بھی خاص مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے ہی درمیان ہے۔ حالانکہ مایاوتی سبھی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کرکے کہیں کہیں پر مقابلہ سہ رخی بنانے کی کوشش میں ہیں۔


بی جے پی نے روٹھوں کو منانے اور ڈیمج کنٹرول کے لئے کیلاش وجے ورگیہ کو بڑی ذمہ داری دی ہے۔
بی جے پی نے روٹھوں کو منانے اور ڈیمج کنٹرول کے لئے کیلاش وجے ورگیہ کو بڑی ذمہ داری دی ہے۔


بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ جو مدھیہ پردیش کے سابق وزیر بھی ہیں اور مالوہ پر ان کا گہرا ہے۔ بی جے پی نے سندھیا خیمہ کے 22 لوگوں کی انٹری ہونے کے بعد اپنوں کو منانے اور ڈیمج کنٹرول کے لئےکیلاش وجے ورگیہ کو بڑی ذمہ داری ہے۔ وہیں کیلاش وجے ورگیہ کہتے ہیں کہ کانگریس نے پرشانت کشورکو انٹری دے کر یہ بتا دیا ہے کہ اس اسمبلی ضمنی انتخابات میں پہلے ہی شکست قبول کرلی ہے۔ کانگریس کو اپنی قیادت پر بھروسہ نہیں ہے تبھی تو باہر کے لوگوں کے سہارے میدان میں اتر رہی ہے۔ بی جے پی کام پر یقین رکھتی ہے اور کام کے بھروسے ہی جنتا کے بیچ جائے گی اور سبھی 24 سیٹوں پر بڑی اکثریت سے جیت درج کرےگی۔

کانگریس نے الیکشن مینجمنٹ اور سوشل میڈیا کے لئے پرشانت کشور کی مدد لی ہے۔
کانگریس نے الیکشن مینجمنٹ اور سوشل میڈیا کے لئے پرشانت کشور کی مدد لی ہے۔


وہیں کانگریس کیلاش وجے ورگیہ کو اپنے لئے کوئی مقابلہ نہیں مانتی نہیں ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ بی جے پی قیادت جو زور زور سے نعرہ لگاتی تھی کہ معاف کرو مہاراج، اب کی شیوراج۔ اب اسے معلوم ہوگیا ہے کہ مہاراج اور شیوراج کے بھروسہ اقتدار کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی ہے، اسی لئے اس نے کیلاش وجے ورگیہ کو میدان میں اتارا ہے۔ تاہم کانگریس کے لئے شیوراج، مہاراج اور کیلاش چیلنج نہیں ہے۔ کانگریس نے جو کام 15 مہینے میں کیا ہے، وہ بی جے پی 15 سال میں بھی نہیں کر سکی ہے۔ کانگریس اقتدار میں واپسی کرےگی، اسے پردیش کے عوام پر پورا بھروسہ ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 03, 2020 05:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading