مودی، شاہ کو درانداز بتانے پر بی جے پی نے کہا۔ معافی مانگیں ادھیررنجن چودھری

لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کے وزیراعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو درانداز بتائے جانے سے متعلق بیان پر ایوان میں برسراقتدار پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور رنجن چودھری سے بغیر شرط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

Dec 02, 2019 03:58 PM IST | Updated on: Dec 02, 2019 04:00 PM IST
مودی، شاہ کو درانداز بتانے پر بی جے پی نے کہا۔ معافی مانگیں ادھیررنجن چودھری

لوک سبھا میں بولتے ہوئے ادھیر رنجن چودھری

نئی دہلی۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کے وزیراعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو درانداز بتائے جانے سے متعلق بیان پر ایوان میں برسراقتدار پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور رنجن چودھری سے بغیر شرط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ وقفہ صفر میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جےپی) کے ادے پرتاپ سنگھ نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے لیڈر نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو درانداز کہا ہے۔ چودھری قومی شہریت رجسٹر کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ دراندازی کو بڑھانے کے حامی ہیں۔ جبکہ  مودی بی جے پی کے لیڈر نہیں بلکہ ہندوستان کے دل پر راج کرتے ہیں۔ چودھری کو اس کےلئے بغیر شرط معافی مانگنی چاہئے۔

سنگھ کے یہ کہنے پر پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی، پارلیمانی امور کے وزیرمملکت ارجن رام میگھوال اور برسراقتدار پارٹی کے متعدد اراکین اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور اشتعال میں آکرچودھری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ جوشی نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو درانداز بتا کرچودھری نے ثابت کیا ہے کہ کانگریس عوامی رائے کا احترام نہیں کرتی اور اسے قبول بھی نہیں کرتی۔ وہ اس کی سخت تنقید کرتے ہیں۔

بعد میں ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ برسراقتدار پارٹی ان کی بات کے مفہوم کو جانے بغیر ہی پرجوش ہو رہی ہے۔ اسے ان کی بات سننی چاہئے۔ یہ سارے مفہوم سننے پر ان کی بات کا مطلب حل ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کھلے عام قبول کرتے ہیں وہ اور ان کے والدین بنگلہ دیش سے ہندوستان آئے تھے۔ لیکن آزادی کے وقت آنے پر کوئی انہیں درانداز کہہ دے تو کیا وہ درانداز کہلائیں گے۔

Loading...

Loading...