ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں ایک بار پھر بی جے پی۔ جے ڈی ایس کی دوستی، جے ڈی ایس کی تائید سے بی جے پی امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب

کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں بی جے پی ۔ جے ڈی ایس کی دوستی قائم ہوئی ہے۔ آج کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کیلئے الیکشن عمل میں آیا۔ بی جے پی کے امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔ جے ڈی ایس کی تائید سے پرانیش آسانی کے ساتھ نائب چیئرمین کے عہدے کیلئے منتخب ہوئے جبکہ کانگریس کے امیدوار کے سی کونڈیا کو شکست ہوئی۔

  • Share this:
کرناٹک میں ایک بار پھر بی جے پی۔ جے ڈی ایس کی دوستی، جے ڈی ایس کی تائید سے بی جے پی امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب
کرناٹک میں ایک بار پھر بی جے پی۔ جے ڈی ایس کی دوستی، جے ڈی ایس کی تائید سے بی جے پی امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب

بنگلورو: کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں بی جے پی ۔ جے ڈی ایس کی دوستی قائم ہوئی ہے۔ آج کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کیلئے الیکشن عمل میں آیا۔ بی جے پی کے امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔ جے ڈی ایس کی تائید سے پرانیش آسانی کے ساتھ نائب چیئرمین کے عہدے کیلئے منتخب ہوئے جبکہ کانگریس کے امیدوار کے سی کونڈیا کو شکست ہوئی۔

کونسل میں کانگریس کے موجودہ چیئرمین پرتاپ چندر شیٹی نے ووٹنگ کی کارروائی انجام دی۔ صوتی ووٹ کے بجائے کھڑے ہوکر ارکان نے ایک کے بعد ایک اپنی تائید کا اعلان کیا۔ پہلے بی جے پی کے امیدوار پرانیش کے حق میں ووٹنگ کی کارروائی عمل میں آئی، جس میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے ارکان نے اپنی تائید کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کانگریس کے امیدوار کے سی کونڈیا کے حق میں ووٹنگ کی کارروائی عمل میں آئی۔ بی جے پی امیدوار پرانیش کے حق میں 41 ارکان نے اپنی تائید کا اعلان کیا اور کانگریس امیدوار کے سی کونڈیا کے حق میں 24 ارکان نے اپنی تائید کا اعلان کیا۔ اس طرح نائب چیئرمین کے عہدے کیلئے ہوئے اس الیکشن میں کانگریس کو شکست ہوئی۔


بی جے پی کے امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔ جے ڈی ایس کی تائید سے پرانیش آسانی کے ساتھ نائب چیئرمین کے عہدے کیلئے منتخب ہوئے جبکہ کانگریس کے امیدوار کے سی کونڈیا کو شکست ہوئی۔
بی جے پی کے امیدوار ایم کے پرانیش ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے۔ جے ڈی ایس کی تائید سے پرانیش آسانی کے ساتھ نائب چیئرمین کے عہدے کیلئے منتخب ہوئے جبکہ کانگریس کے امیدوار کے سی کونڈیا کو شکست ہوئی۔


واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کونسل کے نائب چیئرمین ایس ایل دھرمے گوڈا، جن کا تعلق جے ڈی ایس سے تھا، کے انتقال کی وجہ سے یہ الیکشن عمل میں آیا۔ اب 2 فروری کو قانون ساز کونسل کے چیئرمین کے عہدے کیلئے الیکشن طے ہے۔ بی جے پی نے پہلے ہی کونسل کے موجودہ چیئرمین پرتاپ چندر شیٹی جن کا تعلق کانگریس سے ہے، کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ چیئرمین کے عہدے کیلئے جے ڈی ایس کے سینئر لیڈر بسوراج ہورٹی کے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بسوراج ہورٹی جے ڈی ایس اور بی جے پی کی تائید سے چیئرمین کے عہدے کیلئے منتخب ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق اس الیکشن سے پہلے ہی کانگریس سے تعلق رکھنے والے پرتاپ چندر شیٹی قانون ساز کونسل کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ کونسل بی جے پی اور جے ڈی ایس کے اتحاد کے بعد کانگریس کے امیدوار کا انتخاب مشکل ہے۔ فی الوقت قانون ساز کونسل میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد 31، جے ڈی ایس کے ارکان کی تعداد 13، کانگریس کے ارکان کی تعداد 28 ہے۔ جبکہ 4 آزاد ارکان اور ایک نشست خالی ہے۔ اس طرح بی جے پی۔ جے ڈی ایس اتحاد کیلئے کونسل کے چیئرمین کے عہدے کیلئے امیدوار منتخب کرنا آسان ہے۔
کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان ہوئے اس اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کہا کہ یہ اتحاد صرف کونسل کی حد تک ہے۔
دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیوے گوڑا نے کہا کہ کانگریس نے کونسل میں ان کی پارٹی کو چیئرمین کا عہدہ نہ دیتے ہوئے نا انصافی کی ہے۔ اس وقت کانگریس لیڈر سدارامیا کی وجہ سے ہمارے امیدوار کو چیئرمین کا عہدہ نہیں ملا تھا۔ ہمارے امیدوار بسوراج ہورٹی کو اپنا پرچہ نامزدگی واپس لینا پڑا تھا۔  دیوے گوڑا نے مہاراشٹر کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیا کانگریس نے شیو سینا کے ساتھ اتحاد نہیں کیا؟۔
ایچ ڈی دیوے گوڈا نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی گئو کشی پر پابندی کے بل کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا سخت ترین قانون کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ ایسے قانون سے عوام کو تکلیف ہوگی۔ واضح رہے کہ انسداد گئو کشی بل کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی میں منظور ہو چکا ہے۔ اس متنازعہ بل کو قانون ساز کونسل کی منظوری ملنا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں اجلاس میں بی جے پی حکومت اس بل کو جو اب آرڈیننس کی شکل میں نافذ کیا گیا ہے، کونسل میں پیش کرے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 29, 2021 11:54 PM IST