உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم سے متعلق بی جے پی-جے ڈی یو آمنے سامنے، ریاستی وزیر نے کہا- سیاست سے دے دوں گا استعفیٰ

    نتیش کابینہ کے وزیر زماں خان نے مدارس پر تنقید کرنے والوں کو آئینہ دکھایا ہے۔

    نتیش کابینہ کے وزیر زماں خان نے مدارس پر تنقید کرنے والوں کو آئینہ دکھایا ہے۔

    نتیش کمار کے کابینہ کے وزیر کے اس بیان پر مسلمانوں کا طبقہ نتیش کمار سے بھی ناراض ہوسکتا ہے، جس کے مدنظر محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر زماں خان کو معاملہ مینج کرنے کے لئے آگے بڑھایا گیا ہے۔ محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر زماں خان نے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے اس بات کو حل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیئے۔

    • Share this:
    پٹنہ: مدرسوں پر سیاست ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بی جے پی مدرسوں کو ٹارگیٹ کرکے اپنا الو سیدھا کرتی رہی ہے۔ دراصل کسی بھی صوبہ میں انتخاب کا موقع ہو اور مدرسہ، قبرستان اور مسلمان موضوع نہیں بنیں، ایسا ممکن نہیں ہے۔ موضوع بھی کیسے، جس کے اثرات منفی ہوں۔ بہار میں بی جے پی کے دو دو وزیر جیویش مشرا اور نیرج ببلو نے دو دن پہلے بیان دیا کہ مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ملک مخالف تعلیم کے ساتھ طلباء مدرسوں سے فارغ ہوتے ہیں اور بعد میں ان کی سرگرمیاں ملک مخالف ہی ہوتی ہیں۔ بہار حکومت کے وزیر کے اس بیان پر ظاہر ہے سیاست کا ایک دور چلے گا۔ نتیش کمار کے کابینہ میں شامل وزیر کے مدرسوں کے تعلق سے اس طرح کے بیان پر جے ڈی یو مشکل میں آگئی ہے۔ وجہ صاف ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار مدرسوں میں فلاحی کام کرنے کی بات کہہ کر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت نے مدارس کے لئے کام نہیں کیا ہے۔ ایسے میں نتیش کمار کے کابینہ کے دو دو وزیروں نے مدرسوں کی تعلیم کو دہشت گردی سے جوڑا ہے۔ اس پر جے ڈی یو سخت ناراض ہوگئی ہے۔

    نتیش کمار کے کابینہ کے وزیر کے اس بیان پر مسلمانوں کا طبقہ نتیش کمار سے بھی ناراض ہوسکتا ہے، جس کے مدنظر محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر زماں خان کو معاملہ مینج کرنے کے لئے آگے بڑھایا گیا ہے۔ محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر زماں خان نے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے اس بات کو حل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیئے۔ زماں خان نے کہا کہ کوئی یہ بتا دے کہ مدرسوں میں دہشت گردی اور ملک مخالف تعلیم دی جاتی ہے تو وہ سیاست سے استعفیٰ دے دیں گے۔انہوں نے بی جے پی کے لیڈروں کو مدرسوں میں چلنے کی دعوت دی ہے۔

    زماں خان نے کہا کہ کوئی یہ بتا دے کہ مدرسوں میں دہشت گردی اور ملک مخالف تعلیم دی جاتی ہے تو وہ سیاست سے استعفیٰ دے دیں گے۔

    زماں خان نے کہا کہ کوئی یہ بتا دے کہ مدرسوں میں دہشت گردی اور ملک مخالف تعلیم دی جاتی ہے تو وہ سیاست سے استعفیٰ دے دیں گے۔ریاستی وزیرزماں خان کا کہنا ہے کہ ان کے کابینہ کے ساتھیوں نے غلط فہمی میں اس طرح کا بیان دیا ہے۔ اگر وہ ایک بار مدرسوں کا دورہ کرلیں تو ان کی ساری غلط فہمی نہ صرف دور ہو جائے گی بلکہ وہ بھی مدرسوں کی ترقی کے لئے کام کرنے لگیں گے۔ زماں خان نے یہ بھی کہا کی مدارس کے تعلیم کو لے کرلوگ ہمیشہ غلط بیان بازی کرتے ہیں، جو درست نہیں ہے۔ وزیر اقلیتی فلاح وبہبود کا کہنا ہے کہ مدرسوں کے پڑھے ہوئے لوگوں کے خون سے آزادی کی لڑائی لڑی گئی ہے۔ کیا وہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ مدرسوں کے سینکڑوں علماء کو برطانیہ کی حکومت نے سولی پر چڑھا دیا تھا۔ ان کی قربانی کس لئے تھی؟ اس لئے ہی کہ وہ ملک کی آزادی چاہتے تھے۔ ملک کے امن و امان اور ترقی کی تعلیم مدرسوں میں دی جاتی ہے۔ غریب بچے وہاں زیر تعلیم ہیں تو کچھ لوگوں کو پیٹ میں درد ہوتا ہے۔
     زماں خان نے کہا کہ مدارس کی تنقید کرنے والوں سے ہم کہنا چاہتے ہیں کی وہ ہمارے ساتھ مدرسوں میں چلیں تاکہ ان کے دماغ سے یہ الجھن ختم ہو جائے کہ مدرسوں میں کس طرح کی تعلیم ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہارکی موجودہ حکومت نے مدارس کے فلاح کے لئے کافی کام کیا ہے اور آگے بھی مدرسوں کے سلسلے میں حکومت کام کرتی رہے گی۔


    دوسری جانب، دانشوروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لیڈر اور وزیر کی جانب سے مدارس کے تعلق سے اس طرح کے بیان کا لوگ عادی ہو چکے ہیں۔ ان کی سیاست میں مدرسوں کا ایک اہم کردار رہا ہے، لیکن یہ بھی صاف ہے کہ نتیش کمار کے کابینہ کے وزیر مدرسہ کے سلسلے میں اس طرح کی بات کرتے ہیں تو یہ اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے اور اس کا نقصان نتیش کمار کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے، جس مدرسہ کا نام لے لے کر وہ مسلمانوں کا ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں، اسی مدرسہ کو انہیں کے کابینہ کے وزیر نے دہشت گردی کی تعلیم سے جوڑ دیا ہے، ایسے میں اس بات پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو خود جواب دینا چاہئے تاکہ لوگوں میں یہ صاف ہوسکے کہ حکومت کے سربراہ کی مدرسوں کے بارے میں کیا سوچ ہے اورکیا وہ ان وزیروں کے اس متنازعہ بیان پر کوئی کارروائی بھی کرسکتے ہیں یا صرف بیان بازی سے ہی کام نکال لیا جائے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: