உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں BJPلیڈر جیتو چودھری کا گولی مار کر قتل، بدمعاشوں نے داغی 6 گولیاں

    بی جے پی لیڈر جیتو چودھری۔

    بی جے پی لیڈر جیتو چودھری۔

    بتایا جا رہا ہے کہ جیتو چودھری کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر زخمی کر دیاتھا۔ جس کے بعد لوگ انہیں پرائیویٹ گاڑی سے ہسپتال لے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں نے جیتو چودھری کو اسپتال میں مردہ قرار دے دیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں مجرم بے خوف ہو گئے ہیں۔ جس کا اندازہ جہانگیر پوری میں حالیہ تشدد کے بعد غازی پور تھانہ علاقے میں ہونے والی فائرنگ سے لگایا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ غازی پور تھانہ علاقہ میں بدمعاشوں نے بی جے پی لیڈر جیتو چودھری کو گولیوں سے بھون کر قتل کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بدمعاشوں نے بی جے پی لیڈر جیتو چودھری پر 6 گولیاں چلائی ہیں۔ جیتو چودھری بی جے پی کے میور ویہار ضلع کے لیڈر تھے۔

      پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جیتو چودھری کا کنسٹرکشن کا کاروبار تھا۔ ان کا ایک ٹھیکیدار سے پیسوں پر جھگڑا چل رہا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ قتل کے پیچھے لین دین کا تنازعہ ہو سکتا ہے۔ معاملے میں، 42 سالہ جیتو چودھری کو بدھ کی رات تقریباً 8:15 بجے نامعلوم بدمعاشوں نے گولی مار دی۔ علاج کے لیے اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Delhi Violence:پانچ ملزمین انصار، سلیم، سونو، دلشاد اور آہیر پر لگا NSA، اب تک 26گرفتار

      پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق بتایا جا رہا ہے کہ بدھ کی رات تقریباً 8:15 بجے غازی پور تھانے کے بیٹ اسٹاف نے گشت کے دوران میور ویہار علاقے میں ایک بھیڑ کو دیکھا۔ جس میں 42 سالہ جتیندر عرف جیتو چودھری کو خون میں لت پت سڑک پر پڑا دیکھا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Bulli Bai APP:اس وجہ سے عدالت نے دی مسلم خواتین کی نیلامی کاایپ بنانے والوں کو ضمانت

      بتایا جا رہا ہے کہ جیتو چودھری کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر زخمی کر دیاتھا۔ جس کے بعد لوگ انہیں پرائیویٹ گاڑی سے ہسپتال لے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں نے جیتو چودھری کو اسپتال میں مردہ قرار دے دیا۔ فی الحال پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی کرائم ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ موقع سے کچھ خالی کارتوس اور دیگر اہم شواہد برآمد ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تلاش کی جارہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: