جموں و کشمیر میں جلد حکومت سازی کی کوشش میں بی جے پی، 'باغیوں' کو ساتھ لینے کا کیا اشارہ

جموں کشمیر میں سیاسی سرگرمی بڑھتی نظر آرہی ہے، جہاں محبوبہ مفتی سے ناراض پی ڈی پی کے کچھ باغی ممبران اسمبلی کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبر ہے۔

Jul 03, 2018 12:38 PM IST | Updated on: Jul 03, 2018 12:46 PM IST
جموں و کشمیر میں جلد حکومت سازی کی کوشش میں بی جے پی، 'باغیوں' کو ساتھ لینے کا کیا اشارہ

کویندر گپتا اور رام مادھو: فائل فوٹو۔

جموں کشمیر میں سیاسی سرگرمی بڑھتی نظر آرہی ہے، جہاں محبوبہ مفتی سے ناراض پی ڈی پی کے کچھ باغی ممبران اسمبلی کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبر ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاست کے سابق نائب وزیر اعلی كويندر گپتا بھی اس بات کی تصدیق کرتے نظر آئے۔ گپتا نے نیوز 18 کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ آنے والے دنوں میں مختلف جماعتوں کے ' غیر مطمئن ارکان اسمبلی' ایک ساتھ آ سکتے ہیں۔

گپتا کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب بی جے پی جنرل سکریٹری اور جموں کشمیر کے انچارج رام مادھو نے چند دنوں پہلے سجاد لون سے ملاقات کی تھی۔ 27 جون کو ہوئی اس ملاقات کے بعد یہاں سیاسی گلیاروں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ لون اس محاذ کی قیادت کر سکتے ہیں۔

Loading...

اس سے پہلے پی ڈی پی رہنما عمران رضا انصاری اور عابد انصاری بھی محبوبہ مفتی کے خلاف کھلی بغاوت کرتے نظر آئے ہیں۔ وہیں، جب گپتا سے پوچھا گیا کہ کیا بی جے پی باغی ارکان اسمبلی کے رابطے میں ہے تو ان کا جواب تھا، "یہ لوگ پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اور ایک نیا مورچہ بنانے کے لئے ساتھ آ سکتے ہیں۔"

بتا دیں کہ ریاست میں اتوار کے بعد سے پی ڈی پی کے پانچ ایم ایل ایز پارٹی قیادت کے خلاف بغاوتی تیور اپناتے ہوئے محبوبہ مفتی پر اقرباپروری کو فروغ دینے کا الزام لگا چکے ہیں۔

اس سے قبل، پیر کے روز نیوز 18 نے کہا تھا کہ بی جے پی جموں کشمیر میں حکومت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور امرناتھ یاترا ختم ہونے کے بعد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

Loading...