உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دن بھر کے ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد دیر رات گھر پہنچے تیجندر Bagga، کہا-کسی سے ڈرنے والے نہیں

    ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد تیجندر بگا کی رہائی۔

    ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد تیجندر بگا کی رہائی۔

    اہم بات یہ ہے کہ تیجندر پال سنگھ بگا کو پنجاب پولیس نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے خلاف تبصرے کے لیے گرفتار کیا تھا۔ انہیں جمعہ کی صبح اچانک چھاپہ مار کر جنک پوری میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (BJYM) کے قومی سکریٹری تیجندر پال سنگھ بگا کو جمعہ کو دن بھر جاری ڈرامائی پیش رفت کے درمیان دیر رات گروگرام میں مجسٹریٹ سدھا ترپاٹھی کی رہائش گاہ پر دہلی پولیس نے پیش کیا۔ جس کے بعد وہ اپنے گھر روانہ ہوگئے، پیر کو بیان قلمبند کیا جائے گا۔ مجسٹریٹ نے بگا اور ان کے اہل خانہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے سے پہلے بگا کو طبی جانچ کے لیے دہلی کے دین دیال اپادھیائے اسپتال لے جایا گیا۔ بگا کو کمر اور کندھے پر چوٹیں آئیں ہیں۔

      میڈیا سے بات چیت میں AAP پر نشانہ
      اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بگا نے ہریانہ اور دہلی پولیس اور بی جے پی کارکنوں کی حمایت کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے عام آدمی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ وہ پولیس کی مدد سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بی جے پی کارکن کسی سے نہیں ڈرے گا۔ میں ہریانہ اور دہلی پولیس اور تمام بی جے پی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی۔ دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور متعلقہ لوگوں کو سزا دی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Punjab Police: بی جے پی اور AAP کے درمیان لفظی جنگ، تاجندر بگا کیوں بنے توجہ کا مرکز؟

      چھاپہ مارکر بگا کو کیا گرفتار
      اہم بات یہ ہے کہ تیجندر پال سنگھ بگا کو پنجاب پولیس نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے خلاف تبصرے کے لیے گرفتار کیا تھا۔ انہیں جمعہ کی صبح اچانک چھاپہ مار کر جنک پوری میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں:


      بگا کی گرفتاری کے ساتھ ہی دہلی میں بی جے پی کا احتجاج شروع ہو گیا۔ اسی دوران رشتہ داروں کی شکایت پر دہلی پولیس نے ہریانہ پولیس کی مدد سے پنجاب پولیس کے خلاف اغوا، لوٹ، ڈکیتی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے بگا کو رہا کر دیا۔

       
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: