ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بی ایس یدیورپا کو وزیر اعلیٰ عہد ے سے ہٹانے کی کوشش میں آر ایس ایس کا قریبی بی جے پی گروپ: سدارمیا کا دعویٰ

کرناٹک میں اپوزیشن لیڈر سدارمیا نے منگل کو الزام لگایا کہ آرایس ایس کا قریبی، بی جے پی کا ایک گروپ وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپا کو معزول کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے یہ گروپ گزشتہ ہفتے بنگلورو میں ہوئے تشدد کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • Share this:
بی ایس یدیورپا کو وزیر اعلیٰ عہد ے سے ہٹانے کی کوشش میں آر ایس ایس کا قریبی بی جے پی گروپ: سدارمیا کا دعویٰ
بی ایس یدیورپا کو وزیر اعلیٰ عہد ے سے ہٹانے کی کوشش میں آر ایس ایس کا قریبی بی جے پی گروپ: سدارمیا

بنگلورو: کرناٹک میں اپوزیشن لیڈر سدارمیا (Siddaramaiah) نے منگل کو الزام لگایا کہ آرایس ایس (RSS) کا قریبی، بی جے پی کا ایک گروپ وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپا (B. S. Yediyurappa) کو ہٹانا چاہتا ہے۔ اس لئے یہ گروپ گزشتہ ہفتے بنگلورو میں ہوئے تشدد کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ برسراقتدار پارٹی کے لیڈر سیاسی فائدہ کی غرض سے مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لئے ایس ڈی پی آئی کا استعمال ہتھیار کے طور پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت اور اس کے وزرا پر الزام عائد کیا کہ وہ تشدد کے موضوع پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور اصل قصورواروں کی شناخت کرنے کی جگہ کانگریس کو نشانہ بنانے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں۔




بی جے پی واضح طور پر دو گروپوں میں منقسم

سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ٹوئٹ کیا کہ کرناٹک میں بی جے پی واضح طور پر دو گروپوں میں منقسم ہے۔ ایک گروپ آر ایس ایس کا قریبی ہے، جو بی ایس یدی یورپا کو ہٹا کر بنگلورو میں ہوئے تشدد کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’جانچ خفیہ محکمہ کی ناکامی سے شروع ہونی چاہئے’۔

سرخیوں میں آگئی ایس ڈی پی آئی

واضح رہے کہ ایس ڈی پی آئی (SDPI) کا نام بنگلورو تشدد میں سامنے آیا ہے۔ 11 اگست کی رات کو بنگلورو میں بھیڑ (Bengaluru Violence) کے تشدد میں جانچ آگے بڑھنے کے ساتھ، ایس ڈی پی آئی سرخیوں میں آگئی ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ بسوراج بومئی (Karnataka home minister Basavaraj Bommai) نے جمعرات کو میڈیا کو بتایا تھا، ’ اب تک کی اطلاعات اور ویڈیو فوٹیج کے مطابق، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایس ڈی پی آئی کا کردار سامنے آرہا ہے۔ ہم اس کے بارے میں پوری اطلاعات جمع کر رہے ہیں۔ ہم اس سے متعلق گہرائی سے جانچ کر رہے ہیں’۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 18, 2020 11:58 PM IST