உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh Local Body Results: بی جے پی کا دائرہ ہوا محدود، کانگریس کو ہوا فائدہ

    مدھیہ پردیش میں دو مرحلوں میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر جیت کے بعد بھی بی جے پی کا دائرہ محدود ہوگیا ہے۔ سابقہ بلدیاتی انتخابات میں صوبہ کی 16 نگر نگم میں کامیابی کا پرچم لہرانے والی بی جے پی کو اس بارکے انتخابات میں 7 سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    مدھیہ پردیش میں دو مرحلوں میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر جیت کے بعد بھی بی جے پی کا دائرہ محدود ہوگیا ہے۔ سابقہ بلدیاتی انتخابات میں صوبہ کی 16 نگر نگم میں کامیابی کا پرچم لہرانے والی بی جے پی کو اس بارکے انتخابات میں 7 سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    مدھیہ پردیش میں دو مرحلوں میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر جیت کے بعد بھی بی جے پی کا دائرہ محدود ہوگیا ہے۔ سابقہ بلدیاتی انتخابات میں صوبہ کی 16 نگر نگم میں کامیابی کا پرچم لہرانے والی بی جے پی کو اس بارکے انتخابات میں 7 سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش میں دو مرحلوں میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر جیت کے بعد بھی بی جے پی کا دائرہ محدود ہوگیا ہے۔ سابقہ بلدیاتی انتخابات میں صوبہ کی 16 نگر نگم میں کامیابی کا پرچم لہرانے والی بی جے پی کو اس بارکے انتخابات میں 7 سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صوبہ کے 16 نگر نگم میں سے بی جے پی کو 9، کانگریس کو 5، عام آدمی پارٹی کو ایک سیٹ کے ساتھ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

    بلدیاتی انتخابات کے دونوں مرحلوں کے نتائج کااعلان ہونے کے بعد جہاں بی جے پی اور کانگریس کے ذریعہ جشن منایا جا رہا ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی اور ایم آئی ایم کے کارکنان نے بھی ایم پی میں سیاسی قدم کے مضبوط استقبال سے خوش نظر آرہے ہیں۔
    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں بلدیاتی انتخابات جو دو سال کی تاخیر سے سپریم کورٹ کے احکام کے بعد منعقدکیا گیا، اس میں خاص مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان تھا۔ صوبہ کی 16 نگر نگم میں سابقہ انتخابات میں سب پر بی جے پی کا قبضہ تھا اور کانگریس کو ہر سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہیں اس بار کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی نے وہ جیت تو درج نہیں کی جو سابقہ اس کے ریکارڈ میں درج تھی۔

    سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے بھوپال کانگریس دفتر پر پارٹی کارکنان کے ساتھ جشن منایا۔
    سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے بھوپال کانگریس دفتر پر پارٹی کارکنان کے ساتھ جشن منایا۔


    بی جے پی حالانکہ اب بھی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے، مگر اسے گوالیار اور چمبل ڈویژن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گوالیار چمبل ڈویژن سے مدھیہ پردیش میں 11 وزیر ہیں، جس میں سے دو مرکزی حکومت میں وزیر کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی گوالیار اور مرینہ کی سیٹ پر بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے بھوپال کانگریس دفتر پر پارٹی کارکنان کے ساتھ جشن منایا۔ کمل ناتھ کہتے ہیں کہ سابقہ بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کے پاس ایک بھی سیٹ نہیں تھی اور اب عوام کے پیار سے ان کے پاس سیٹیں ہیں۔ یہ عوام اورکانگریس کارکنان کی جیت ہے۔ بی جے پی سرپنچ سے لے کر صدر عہدے تک پیسے کا استعمال کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی نے انتخابات میں پیسہ، پولیس اور انتظامیہ کا استعمال کیا۔ ان سب کا ننگا ناچ ہوا، لیکن وہ عوام کو بیوقوف بنانے میں ناکام رہی ہے۔

    کمل ناتھ نے مزید کہا کہ بی جے پی سب خرید سکتی ہے، لیکن کسی کا دل نہیں۔ بی جے پی نے میئرکی دو سیٹ پانچ سو کے آس پاس ووٹوں سے جیتی ہے مگر یہ کیسی جیتی ہے، سب کو معلوم ہے۔ بچہ کہیں اور پیدا ہوتا ہے، مگر مٹھائی بی جے پی تقسیم کرتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں عوام کے رجحان نے بتادیا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    وہیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کئے جانے کے بعد بھوپال بی جے پی آفس میں جشن منایا گیا۔ سی ایم شیوراج سنگھ، ایم پی بی جے پی صدر وی ڈی شرما کے علاوہ شیوراج سنگھ کابینہ کے وزیروں اور بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔

    بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کئے جانے کے بعد بھوپال بی جے پی آفس میں جشن منایا گیا۔
    بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کئے جانے کے بعد بھوپال بی جے پی آفس میں جشن منایا گیا۔


    بی جے پی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے سی ایم شیوراج سنگھ نے کہا کہ شاندار جیت کے لئے پارٹی کارکنان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم نے 16 نگر نگم میں سے 9 نگر نگم میں کامیابی حاصل کی ہے. 76 نگر پالیکا میں سے بی جے پی نے 50 میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ 255 نگر پریشد میں سے 185 نگر پریشد میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد بھی اگرکانگریس جشن مناتی ہے، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سرکار کی فلاحی اسکیمیں، مودی جی کی قیادت کی جیت ہوئی ہے اور عوام نے کانگریس کے مکر و فریب کا جواب دیا ہے۔
    وہیں مدھیہ پردیش ایم آئی ایم کور کمیٹی کے رکن قاضی سید انس علی ندوی نے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو مدھیہ پردیش میں تیسرے متبادل کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ قاضی سید انس علی ندوی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا مدھیہ پردیش کی عوام نے پہلے مرحلے میں برہانپور، کھنڈوا اور جبلپور میں کامیابی سے نوازا تھا اور دوسرے مرحلے کے انتخابات میں کھرگون میں تین سیٹیں ایم آئی ایم کی جھولی میں ڈالی ہیں۔ عوام نے ہم پر اعتبارکیا ہے اور ہماری ذمہ داری اب پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب ہم لوگ پارٹی صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی کی قیادت میں 2023 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ صوبہ میں تیسرا متبادل پیش کر سکیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: