ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کے گھر کے باہر ان کی بہو نے خودکشی کی کوشش کی، نسیں کاٹ لیں

BJP MP Kaushal Kishore Daughter-in-Law Row: اسپتال میں انکتا نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ میں نے آیوش کے گھر کے باہر ہی بلیڈ سے نس کاٹی۔ اس وقت آیوش کی ماں اور دیگر لوگ باہر ہی ٹہل رہے تھے۔ کسی نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔

  • Share this:
بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کے گھر کے باہر ان کی بہو  نے خودکشی کی کوشش کی، نسیں کاٹ لیں
بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کےگھر کے باہر ان کی بہو نے نسیں کاٹ لیں

لکھنؤ: اترپردیش کی راجدھانی لکھنو کے موہن لال گنج سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ کوشل کشور (BJP MP Kaushal Kishore) کے خانگی مناقشے کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور اب ان کی بہو انکیتا نے اپنے ہاتھ کی نس کاٹ کر خود کشی کی کوشش (Suicide Attempt) کی ہے۔ آناً فاناً میں پولیس نے انکتا کو سول اسپتال میں ایڈمٹ کرایا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ خودکشی کی کوشش سے پہلے اتوار کو انکتا کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، اس میں انکتا نے شوہر آیوش پر سنگین الزامات عائد کئے۔


انکتا نے کہا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ اسپتال میں انکتا نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ میں نے آیوش کے گھر کے باہر ہی بلیڈ سے نس کاٹی۔ اس وقت آیوش کی ماں اور دیگر لوگ باہر ہی ٹہل رہے تھے۔ کسی نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد پولیس آئی۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ انکیتا نے گذشتہ شب اپنے ہاتھ کی نسیں کاٹنے سے قبل ایک ویڈیو جاری کی تھی ، جس میں اس نے اپنے شوہر آیوش کشور اور اس کے والدین پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔


پولیس نے بتایا کہ انکیتا اسکوٹی سے دوبگا میں واقع کوشل کشور کے گھر پہنچی اور ہاتھ کی نسیں کاٹ لیں۔ رگ کٹنے سے پہلے وائرل ویڈیو کے بعد کاکوری پولیس انکیتا کی تلاش کررہی تھی۔ ہاتھ کی نسیں کٹنے کے بعد پولیس نے انکیتا کو سول اسپتال میں داخل کرایا۔

اسپتال میں انکیتا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت ٹھیک ہے۔ اسپتال میں انکیتا نے اپنے شوہر آیوش اور اس کے والدین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انکیتا نے کہا کہ انہیں پولیس انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے۔ اس معاملے میں اس کی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ اسی لئے اس نے یہ قدم اٹھایا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 15, 2021 11:54 AM IST