مولانا بدرالدین اجمل کے بیان پربی جے پی رکن پارلیمنٹ نےکہا- 'یہ ملک اللہ کےنورسےنہیں آئین کے نورسے چلتا ہے'۔

بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ بدرالدین اجمل 'گرو مورچلڈرن' کے اصولوں پر چل رہے ہیں۔ اس کے تحت آبادی کے توازن کو مذہب کی مداخلت کے سبب بگاڑنا ہوتا ہے۔

Oct 29, 2019 05:53 PM IST | Updated on: Oct 29, 2019 06:02 PM IST
مولانا بدرالدین اجمل کے بیان پربی جے پی رکن پارلیمنٹ نےکہا- 'یہ ملک اللہ کےنورسےنہیں آئین کے نورسے چلتا ہے'۔

رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کے بیان پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ راکیش سنہا اورگری راج سنگھ نے تنقید کی ہے۔

پٹنہ: آسام میں آبادی کنٹرول سے  متعلق پہل پرتبصرہ کرتے ہوئےآل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) کے سربراہ اوررکن پارلیمنٹ بدرالدین اجمل نے ہفتہ کوکہا تھا کہ مسلم بچے پیدا کرتے رہیں گےاوروہ کسی کی نہیں سنیں گے۔ ان کےاس بیان پربی جے پی لیڈراورمرکزی وزیرگری راج سنگھ نے سخت تبصرہ کے بعد بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن راکیش سنہا نے بھی پلٹ وارکیا ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نےکہا کہ یہ ملک اللہ کے نورسےنہیں آئین کےنورسے چلتا ہے۔

راجیہ سبھا رکن راکیش سنہا نےکہا کہ بدرالدین اجمل 'گرومورچلڈرن' (زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں) کےاصولوں پرچل رہے ہیں۔ اس کے تحت آبادی کےتوازن کومذہب کی مداخلت کےسبب بگاڑنا ہوتا ہے۔ بدرالدین اجمل مسلم طبقےکی خواتین کوبچہ پیدا کرنےکی فیکٹری سمجھ رہے ہیں۔ راکیش سنہا نے'دوبچہ کےاصول' کووقت کی ضرورت بتاتے ہوئےکہا کہ مسلسل بڑھ رہی آبادی کوروکنےکےلئے قانون بنانےکی ضرورت ہے۔

Loading...

واضح رہےکہ اس سے قبل گری راج سنگھ نےآبادی کنٹرول کولےکرآسام حکومت کی پہل کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ بڑھتی آبادی ملک کی ہم آہنگی کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔ گری راج سنگھ نےاپنے ٹوئٹ میں لکھا 'بدرالدین اجمل کی نظرمیں ہندوستان میں اسلام صرف بچہ پیدا کرنے کی فیکٹری ہے۔ کیا ایران، انڈونیشیا، ملیشیا وغیرہ دیگرممالک میں اسلام نہیں، جنہوں نےآبادی کنٹرول کرنے کےلئے مؤثراقدامات کئے ہیں'؟

گری راج سنگھ نےاس کے بعد مسلسل دوسرا ٹوئٹ بھی کیا۔ اس میں انہوں آبادی کنٹرول کی حکمت عملی لےکرآنے کےلئےآسام حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ گری راج سنگھ نے ٹوئٹ میں لکھا '1951 میں آبادی 36 کروڑ تھی، جواب 137 کروڑ ہوگئی۔ ہرسال 2 کروڑکی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ آسام حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جوکام ہندوستان میں بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا، انہوں نے وہ کردکھایا۔ دھماکہ خیزآبادی کے وسائل، ترقی اورمعاشرتی ہم آہنگی کےلئےایک دھماکہ خیزمسئلہ بن گیا ہے۔  

وہیں این ڈی اے میں شامل جے ڈی یوکی اس مسئلے پرالگ رائے ہے۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل کے سی تیاگی نے بدرالدین اجمل اورگری راج سنگھ کے بیان پرکہا کہ آبادی کنٹرول کسی ذات اورمذہب کی بنیاد پرنافذ کرنےکی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ نا کسی مذہب کے ماننے والے شخص کولگے کہ یہ ان کےخلاف ہے۔ حالانکہ انہوں نےکہا کہ بدرالدین اجمل یا کسی دوسرے کوبھی اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہئے۔

Loading...