وزیراعظم مودی اورامت شاہ کے مشکل وقت میں ارون جیٹلی نے دیا تھا ساتھ

نوے کی دہائی کے بعد بی جے پی میں طاقتوربن کرابھرے۔ کم وبیش ان سبھی لیڈروں نے ایمر جنسی کے دوران طلبہ سیاست میں حصہ لیا اورکانگریس مخالف لہرکا حصہ بنے۔ ان لیڈروں کو ہندتوا وادی بریگیڈ کے نوجوان لیڈروں کی صف میں رکھا گیا۔

Aug 24, 2019 08:27 PM IST | Updated on: Aug 24, 2019 08:35 PM IST
وزیراعظم مودی اورامت شاہ کے مشکل وقت میں ارون جیٹلی نے دیا تھا ساتھ

ارون جیٹلی: فائل فوٹو

ارون جیٹلی، سشما سوراج اورپرمود مہاجن بی جے پی کے ایسے لیڈررہے ہیں، جو نوے کی دہائی کے بعد بی جے پی میں طاقتوربن کرابھرے۔ کم وبیش ان سبھی لیڈروں نےایمرجنسی کے دوران طلبہ سیاست میں حصہ لیا اورکانگریس مخالف لہرکا حصہ بنے۔ ان لیڈروں کو ہندتوا وادی بریگیڈ کےنوجوان لیڈروں کی صف میں رکھا گیا۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ لال کرشن اڈوانی نےان لیڈروں کوخصوصی طورموقع دیا اورسیاست میں آگے بڑھایا۔ یہ لیڈرلبرل ازم کےبعد کی بی جے پی کے عظیم لیڈروں میں سے رہے۔

یہ بہت مایوس کن ہےکہ کچھ سال قبل بی جے پی کی سب سےقابل لیڈروں کی صف میں سے پہلے پرمود مہاجن چلے گئےاورگزشتہ ایک ماہ کےدوران پہلےسشما سوراج اورپھرارون جیٹلی، پرمودمہاجن کےجانےکے بعد ارون جیٹلی ہی بی جے پی کےاہم مشیرہوا کرتےتھے۔

Loading...

ارون جیٹلی کو اڈوانی نے سیاست میں آگے بڑھایا

ارون جیٹلی کی خاصیت یہ رہی ہے کہ بی جے پی کے دوسب سے طاقتورلیڈروں کے ساتھ ن کے برابرکے گہرے تعلقات رہے۔ اڈوانی کی سیاست کوقریب سے دیکھتے ہوئے انہوں نے بی جے پی میں اپنی جگہ بنائی تونریندرمودی کو سیاست میں آگے بڑھانے سے لے کران کی وزیراعظم مودی کی دعویداری کے پیروکاری کرنے میں وہ آگے رہے۔ 2001 میں گجرات میں کیشوبھائی پٹیل کی حکومت ڈگمگا رہی تھی۔ دہلی میں وزیراعلیٰ بدلنے کولے کرمیٹنگ چل رہی تھی۔ اس وقت بھی ارون جیٹلی نے نریندرمودی کوگجرات کا وزیراعلیٰ بنائے جانے کی حمایت کی تھی۔

لال کرشن اڈوانی کے ساتھ ارون جیٹلی۔

جیٹلی نے وزیراعظم مودی کےسب سے مشکل وقت میں دیا ساتھ

یہاں تک کی 2002 کے گجرات فسادات کے بعد بھی اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے سامنے ارون جیٹلی نے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی کا بچاو کیا تھا۔ اس وقت دہلی میں ارون جیٹلی گجرات سنبھال رہے نریندرمودی کے چند بھروسہ مند دوستوں میں سےایک تھے۔

ارون جیٹلی نےمودی حکومت کی پہلی مدت میں اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

جیٹلی کے چیمبرمیں اکثرنظرآتے تھے امت شاہ

ارون جیٹلی کے وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ امت شاہ سے بھی تعلقات رہے، جس وقت سہراب الدین شیخ انکاونٹرکیس میں امت شاہ کوگجرات جانے پرپابندی لگائی گئی تھی، ارون جیٹلی نے نہ صرف ان کی قانونی مدد کی تھی، بلکہ اس وقت وہ امت شاہ کے نزدیکی دوستوں میں سےایک تھے۔ اس وقت ارون جیٹلی راجیہ سبھا میں اپوزیشن کےلیڈرتھے۔ امت شاہ کواکثران کے چیمبرمیں آتے جاتے دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے ہرطریقے سے امت شاہ کی مدد کی تھی۔

امت شاہ چاہتےتھے جیٹلی پٹنہ سے الیکشن لڑیں

لوک سبھا الیکشن 2014 میں این ڈی اے کو واضح اکثریت کے ساتھ ملی جیت میں وزیراعظم مودی اورامت شاہ کے ساتھ ارون جیٹلی کا بھی بڑا تعاون رہا تھا۔ حالانکہ ارون جیٹلی کو امرتسر کی سیٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کیپٹن امریندرسنگھ کے ہاتھوں شکست حیران کن تھی۔ صرف پنجاب ہی ایسا صوبہ تھا، جہاں کانگریس نے اچھی کارکردگی پیش کی تھی۔ ارون جیٹلی کی شکست پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بارامت شاہ نے کہا تھا کہ پتہ نہیں وہ پنجاب کیوں گئے۔ میں توچاہتا تھا کہ وہ پٹنہ سے لڑیں اورمودی جی بنارس سے۔ تاکہ پورے مشرقی علاقے میں لہربن جائے۔ 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے دوران کافی تیز بحث چلی تھی کہ پٹنہ صاحب سیٹ سے ارون جیٹلی کواتارا جائے گا۔ شتروگھن سنہا کی پارٹی سے ناراضگی کودیکھتے ہوئے ان کی سیٹ ارون جیٹلی کو دیئے جانے کی بات چل رہی تھی۔ تاہم آخرمیں شتروگھن سنہا پٹنہ صاحب سے جیتے اورارون جیٹلی امرتسرسیٹ سے ہارگئے۔

 

Loading...